refugees

آپریشن شفق دوئم، غبار ہفت؛ انسانی المیہ قریب ہے

آج کی بات:

کابل حکومت نے آپریشن شفق دوئم کے نام سے سیکڑوں خاندانوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے۔ آپریشن کی آڑ میں عام شہریوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ بے جا تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کیا جنا معمول کی بات ہے۔ اسی طرح اس آپریشن کی وجہ سے سیکڑوں خاندانوں کو بھاری مالی نقصان بھی پہنچا ہے۔ سردی کے اس موسم میں لوگوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کیا گیا اور ان کے لیے بڑی مشکلات پیدا کر دی گئی ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کابل انتظامیہ نے صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب میں “غبار ہفت” نامی آپریشن پانچ کر کے علاوہ مکینوں کو اپنے گھر ترک کرنے اور سرد موسم میں صحرا میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ علاقائی عینی شاہدین اور قبائلی رہنماؤں کے مطابق اب تک 450 خاندان نقل مکانی پر مجبور کیے جا چکے ہیں، جو کھلے آسمان تلے ٹھنڈے دن اور اگر راتیں بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کی مدد کے لیے ابھی تک کسی نے ہاتھ نہیں بڑھایا ہے۔ گھر بدرافراد کو فوری طور پر خوراک اور ادویات کی شدید ضرورت ہے۔ اگر ان کے ساتھ فوری طور لر تعاون نہ کیا گیا تو اندیشہ ہے کہ ان کے لیے وسیع ہلاکتوں کا خطرناک اندیشہ پیدا ہو رہا ہے۔

ایک جانب آئے روز افغانستان کے مختلف حصوں میں غیرملکی حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کی جانب سے رات گئے چھاپوں، فضائی حملوں اور میزائل حملوں میں شہریوں کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دوسری جانب کابل انتظامیہ اور زرخرید میڈیا ان جرائم کو مجاہدین کی کارروائی باور کرا کر خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی گھٹیا کوشش میں مصروف ہے۔  ہم نے کئی بار مشاہدہ کیا ہے کہ کابل انتظامیہ اپنی مسلح کارروائیوں میں اسکولوں، صحت کے مراکز اور پلوں کو تباہ کر کے الزام مجاہدین پر لگا دیتی ہے۔

مثلا انتظامیہ نے قندوز میں الچین پل کو تباہ کیا اور لوگر کے ضلع محمد آغا میں اسکول جلا کر اس کا الزام مجاہدین پر لگا دیا۔ اسی طرح چند روز قبل دجالی میڈیا نے کابل انتظامیہ کی فرمائش پر ایک من گھڑت رپورٹ شایع کی کہ صوبہ فاریاب میں مجاہدین کی پیش رفت اور کارروائیوں کے باعث لوگ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ وہ یہاں سے نقل مکانی کر گئے ہیں۔ جب کہ مجاہدین کی طرف سے ایسے کسی واقعے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

کابل انتظامیہ نے قابض افواج کی حمایت میں افغانستان کے متعدد حصوں میں مختلف ناموں سے فوجی آپریشنز کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم بیشتر مقدمات پر ان آپریشنز کی کوئی جھلک بھی دکھائی نہیں دی ہے۔ صرف اس کا نمائشی اعلان کیا گیا ہے۔ جن علاقوں میں دشمن کا آپریشن محسوس کیا بھی گیا ہے، وہاں نہ صرف دشمن نے پیش رفت نہیں کر سکا ہے، بلکہ بڑے پیمانے پر اس کو بھاری جانی و مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہ بہت مشکک سے  اپنے ٹھکانوں کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہو سکا ہے۔ ایک بات بہت واضح ہے کہ جب بھی دشمن نے آپریشن کا اعلان کیا ہے، عام شہریوں کی ہلاکتوں کی خبریں بھی منظرعام پر آجاتی ہیں۔ ابھی آپریشن “شفق دوئم” اور “غبار ہفت” اس کی زندہ مثال ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظمیوں اور خیراتی اداروں کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد نقل مکانی کرنے والے شہریوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر خوراک اور ادویات کی فراہمی کا بندوبست کریں۔ کیوں کہ انسانی جانوں کے ضیاع کا ایک وسیع بحران پیدا ہونے کا امکان سامنے آ رہا ہے۔ جو یقینا انسانیت کے لیے شرم کی بات ہوگی۔

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*