u-s-soldiers

تین سو فوجی کس مرض کی دوا  ہیں؟

⁠⁠⁠⁠آج کی بات:

 

کابل کی زوال پذیر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آقا (امریکا) نے اس کی ’نجات‘ کے لیے افغانستان میں مزید 300 فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، جو صوبہ ہلمند میں تعینات کیے جائیں گے۔

جس دن امریکی صدر اوباما نے اپنی زبان سے بڑی صراحت کے ساتھ افغانستان میں اپنی شکست کا اعتراف کیا تھا اور خاص طور پر مجاہدین کے مقابلے میں اپنی ناکامی کا اظہار کیا تھا، تب سے افغانستان میں امریکی غلاموں کو بڑا تاریخی دھچکا لگا ہے۔ ان کے حوصلے پست ہیں۔ فوجی اور سکیورٹی منصوبے تتربتر ہو رہے ہیں۔ ان کی وہ کھوکھلی افواہیں تھم گَئی ہیں کہ وہ رواں سال بڑی کامیابی حاصل کر کے رہیں گے یا آئندہ سال میں کامیابی کے بلندبانگ دعوے دار تھے۔

اوباما کے اعلان اور اعترافِ شکست کے بعد کابل انتظامیہ نے اپنے آقاؤں کے ساتھ مسلسل رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر کوئی اقدام نہ کیا گیا تو ممکن ہے آئندہ سال مجاہدین گزشتہ سال سے بھی کئی گنا زیادہ حملے کر کے کامیابیاں حاصل کر لیں۔ یوں مجاہدین پر افغان عوام کا اعتماد مزید بڑھے گا، جس سے اُن کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔

پینٹاگون نے بھی مضحکہ خیز اقدام کا اعلان کیا ہے کہ ’وہ کابل حکومت کے ساتھ اپنا بھرپور تعاون جاری رکھیں گے۔‘ اس کے ثبوت کے طور پر اعلان کیا ہے کہ عنقریب300 اہل کاروں کو افغان حکومت کی مدد اور حمایت کے لیے افغانستان بھیجا جائے گا۔

ہم کابل انتظامیہ کو کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کے آقا نے 49 ممالک کے جدید ہتھیاروں سے لیس ڈیڑھ لاکھ فوج کے ساتھ افغانستان پر لشکرکشی کر کے اپنا پورا زور آزما لیا ہے۔ دو کھرب ڈالر خرچ کر ڈالے ہیں۔ آپ کی سیاسی اور اقتصادی حمایت کی خاطر سیکڑوں بین الاقوامی کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔ وہ افغانستان میں مختلف قسم کی وحشیانہ پالیسیوں اور فوجی حکمت عملیوں کو آزما کر اس نتیجے پر پہنچے ہیں، جس کا اعلان خود اوباما نے کر دیا ہے کہ امریکا اور نیٹو پندرہ سال کے دوران مجاہدین کو شکست دینے میں بُری طرح ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔

لہذا جب امریکا اور نیٹو کی ڈیڑھ لاکھ افواج بھی آپ کی حکمرانی صرف کابل شہر میں ہی قائم نہیں کر سکی صوبے تو بہت دور کی کوڑی ہیں۔

اس لیے یہ 300 امریکی فوجی آپ کے کس مرض کی دوا ہوں گے؟! پھر ہلمند جیسے صوبے میں جہاں پہلے ہی ہزاروں امریکی اور برطانوی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، یہ تو دنیا کو خود پر ہنسنے کی اجازت دینے والی بات ہے۔ اگر آپ ان چند فوجیوں کی آمد پر مسرت کا اظہار کرتے ہیں اور خوش ہیں کہ آپ کے فوجیوں کے پست حوصلے بلند ہوں گے تو یہ آپ کی حماقت کی آخری حد ہے۔ بے وقوفی کی اِس حد پر پہنچ کر گدھا بھی آپ کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*