shariat-58-for-web

ماہنامہ شریعت کا نیا شمارہ منظر عام پر

شماره نمبر  58

جہاں ایک طرف حق و باطل کا معرکہ بم بارود کے زور پر محاذوں پر لڑا جا رہا ہے، وہیں نظریاتی جنگ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے ‏لیے امارت اسلامیہ کا ماہِ دسمبر کا سرکاری میگزین ’’ماہنامہ شریعت‘‘ اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ صحافتی اَکھاڑے میں جلوہ گر ہو چکا ‏ہے، جس میں افغانستان کے تازہ جہادی و سیاسی حالات کے منظرنامے کے حوالے سے شان دار تحریریں شامل کی گئی ہیں۔ واضح رہے، شریعت کا یہ شمارہ صحافتی سفر کے حوالے سے اس لیے بھی کچھ خاص ہے کہ اس میں امیرالمؤمنین شیخ مولانا ہبۃ اللہ اخندزادہ حفظہ اللہ کا تعارف بھی شاملِ اشاعت ہے۔ یاد رہنا چاہیے کہ امیرالمؤمنین حفظہ اللہ کا تعارف نامہ اس لیے نشر کیا گیا ہے، تاکہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی رہنے والے مسلمان کو اپنے امیر کے بارے میں مکمل علم ہونا چاہیے۔ وہ جان سکے کہ اللہ تعالی نے جس شخصیت کو اُن کا امیر بنایا ہے، وہ کن کن قابلِ رشک صفات کی حامل ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ امارت اسلامیہ سے خار کھانے والے شرپسند عناصر کا طریقۂ واردات یہ بھی رہا ہے کہ وہ امارت کے زعیم بارے گمراہ کُن افواہیں اُڑا کر مسلمان عوام کو ذہنی طور پر اپاہج کرنا چاہتے ہیں۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ عام مسلمان حقیقی معلومات کی عدم دستیابی یا کم یابی کی وجہ سے اپنے عالی قدر امیر اور امت کی بہترین جماعت کی صف سے نکل جائے گا۔ اور پھر اِس غلطی کا بھی لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسا شخص اللہ تعالی کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں ہے: ’’یداللہ علی الجماعۃ‘‘ اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت کے سر پر ہوتا ہے۔ جو جماعت سے علیحدہ ہوتا ہے، وہ اللہ تعالی کے دستِ رحمت سے بھی نکل جاتا ہے۔

میگزین کے اداریے میں لکھا ہے:

’’دنیا بھی جانتی ہے  اور ہم بھی اس سے انکار نہیں کرتے کہ آج کل افغانستان کے کم علاقے ایسے ہیں، جہاں امن و امان کی صورت حال بہتر ہے۔ اکثر علاقے بدامنی اور افراتفری کا شکار ہیں۔ گھر میں کوئی فرد محفوظ ہے اور نہ دفتر اور کام کاج کی جگہوں میں کسی کو تحفظ حاصل ہے۔ کوئی بھی اپنی جان و مال اور عزت کی حفاظت کے بارے میں مطمئن نہیں ہے۔ یہی بدامنی شہریوں کو درپیش مشکلات میں سب سے بڑی مشکل ہے۔

افغانستان میں بدامنی پھیلانے والے وہ بیرونی قابض عناصر ہیں، جو یہاں امن قائم کرنے کے بہانے اپنے ناجائز قبضے کو دوام دینے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اِن کے علاوہ دوسرے لوگ وہی ہیں، جو انہی بیرونی قابض عناصر کی بنائی ہوئی پولیس، آرمی اور اربکی ملیشا کے روپ میں مسلط ہیں، لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہی بیرونی قابض قوتیں جب افغانستان میں بدامنی کی باتیں کرتی ہیں تو مکر سے بھرپور اس انداز سے کرتی ہیں کہ گویا یہ بدامنی کوئی اُوپر سے گرنے والی چیز ہے یا کوئی ایسی چیز ہے، جو ان قابض قوتوں کے افغانستان آنے سے پہلے یہاں موجود تھی۔ جب کہ یہ لوگ آ کر اُسے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ ہٹتی نہیں  یا اس کے ہٹانے میں ابھی کافی دیر ہے!

نیٹو کے جنرل سیکرٹری ’ینس اسٹولٹنبرگ‘ نے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کہا تھا:

’افغانستان میں امن کا قیام ابھی مشکلات کا شکار ہے اور اس میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔‘

مدیر نے جنرل سیکرٹری کی بات پر سوال اٹھایا ہے کہ آخر یہ بدامنی کس نے اور کیوں پھیلائی ہے؟ آج تک اس ملک کو یوں ہی بے امن و سکون کیوں رکھا گیاہے؟ اور یہاں بدامنی پھیلانے کے کیا مقاصد ہیں؟‘‘

تازہ شمارے میں اسی طرح کی دیگر حقائق کشا تحریریں شاملِ اشاعت ہیں۔ شریعت میگزین اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آسمانِ صحافت پر طلوع ہوا ہے۔ شریعت میگزین کی یہ خاصیت کافی مقبول ہے کہ یہ ہمیشہ سے کسی بھی واقعے کا وہ رُخ عوام کے سامنے لاتا ہے، جو درحقیقت معروضی حقائق کے مطابق ہوتا ہے۔ افغان فوج کے حوالے سے شامل ایک تحریر میں ذکر کیا گیا ہے کہ ’جب امریکا نے افغان فوج تشکیل دی تھی، تب اُسے اِس پر بہت امید تھی۔ لیکن مجاہدین نے ایک دل خوش کُن حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے امریکا کی اس امید پر پانی پھیر دیا ہے۔ وہ تدبیر یہ ہے کہ کچھ مجاہدین کو افغان فوج کی وردی پہنا کر فوج کی صفوں میں داخل کر دیا ہے۔ اب وہ ’فوجی مجاہدین‘ وہاں سے امریکی فوجیوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی اتنی مؤثر ثابت ہوئی ہے کہ امریکا افغان فوج سے ناامید ہونے کے ساتھ ساتھ اس سے دور دور بھی رہنے لگا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ اندرونی کارروائیاں اتنی مؤثر ثابت ہوئی ہیں کہ گزشتہ پندرہ سالوں میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کا 21 فیصد حصہ اِنہی داخلی کارروائیوں کی وجہ سے قبر کے گھپ اندھیروں میں پہنچ چکا ہے۔‘

گوریلا جنگ کے حوالے سے ایک مضمون میں عوام کی خیرخواہی کے تناظر میں مجاہدین کو صلاح دی گئی ہے کہ ’’چوں کہ اسلامی نکتۂ نظر سے بھی جہاد کا مقصد اللہ کے دین کی حاکمیت ہے نہ کہ زمین پر محض کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کسی شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلے وہاں کے شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انہیں کسی قسم کا ضرر اور نقصان نہ پہنچے۔ شہر کے اندر بعض مقامات دشمن کے لیے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان علاقوں کو میدانِ جنگ بنانے سے عوام کےجان و مال اور اُن کی املاک کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو فی الوقت ایسے علاقوں پر کنٹرول سے گریز کیا جائے۔‘‘

ہمارے میڈیا کے ایک سینئر رکن ’اسدافغان‘ نے حال ہی میں ہلمند سے خصوصی ملاقوں کا احوال بھیجا ہے،  جسے ’محاذِ جنگ کا آنکھوں دیکھا حال، تأثرات‘ نامی کالم میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تحریر افغانستان سے دل چسپی رکھنے والے ہر فرد کے لیے خاصے کی چیز ہے۔

علاوہ ازیں اس ماہ کے شمارے میں بہت بہترین تحریریں شامل ہیں، جو یقینا قارئینِ ’’شریعت‘‘ کے سنجیدہ ذوق کے حوالے سے بہت عمدہ ہیں۔ امید ہے قارئین اس دفعہ کے شمارے کو بھی حسبِ سابق اپنے عمدہ ذوق کا ترجمان پائیں گے۔ میگزین میں ’پندرہ سالہ جنگ‘ کے حوالے سے ایک مضمون شامل ہے، جس سے ’امریکی افغانستان‘ کی صورت حال سمجھنے میں کافی مدد ملے گی۔ اس سے معلوم ہو گا کہ امریکی آمد کے بعد افغان عوام کو کن کن حوالوں سے مصائب کا سامنا ہے؟! اس کے علاوہ میگزین میں سابقہ روایت کے مطابق دل چسپ سلسلوں سمیت امارت اسلامیہ کی سیاسی و عسکری برتری اور امریکا اور اُس کے غلاموں کی شکست کے حوالے سے بھی کافی پُرمغز تحریریں شامل کی گئی ہیں، جو قارئین کی توجہ کے لائق ہیں۔

پی ڈی ایف فائل ڈاونلوڈ لنک

https://archive.org/download/shariat-58/shariat-58.pdf

یونیکوڈ{ورڈ}فائل ڈاونلوڈ لنک

https://archive.org/download/Shariat58ForWeb/shariat–58%20for%20web.docx

—————————————————————–

ماہنامہ شریعت فیس بک پیج

https://www.facebook.com/shariatmagazine

ماہنامہ شریعت کا ٹویٹر اکاونٹ

https://twitter.com/shariatmagazine

الاماره اردو  ٹیلگرام چینل

https://telegram.me/joinchat/Bro9Rz5bIaIhALOk8Laclg

الامارہ وٹس آپ نمبر

0093708638285

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*