img-20161013-wa0005

اکتالیس اضلاع پر مجاہدین کا کنٹرول ہے

 آج کی بات:

 

امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے سال 2016 میں افغانستان کے مختلف حصوں میں وسیع علاقے دشمن کے کنٹرول سے نکال لیے ہیں۔ کابل حکومت غیرملکی حملہ آوروں کے فضائی اور زمینی فوجی تعاون کے باوجود امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی پیش رفت نہیں روک سکی۔ قندوز شہر دوبارہ فتح کیا گیا ہے۔ ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ کے مضافات میں مجاہدین نے اپنے مورچے بنا رکھے  ہیں۔ مارجہ، ناد علی، ناوا، گرمسیر،خانشین، متعدد اضلاع اور علاقوں پر مجاہدین کا مکمل کنٹرول ہے۔ مجاہدین اروزگان کے صوبائی دارالحکومت تک پہنچ گئے ہیں، جب کہ صوبہ فراہ گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔

بغلان کے بہت سے علاقوں پر سفید پرچم لہرا رہا ہے۔ فاریاب، جوزجان اور سرپل میں دوم نائب صدر ’جنرل دوستم‘ کو ہر جھڑپ میں پسپائی اختیار کرنا پڑتی ہے۔ ان کی گاڑیاں اور ہتھیار ضبط کر لیے گئے ہیں۔ غزنی، پکتیکا، لغمان، کنڑ، بدخشاں، قندھار اور دیگر صوبوں کے بہت سے علاقوں سے دشمن کو بے دخل کر دیا گیا ہے۔

آزاد کرائے گئے علاقوں میں قومی شاہراہوں اور دیگر علاقوں میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کا سدباب کر کے چوروں کا مکمل قلع قمع کر دیا گیا ہے۔ مدارس اور اسکولز بحال کر دیے گئے ہیں۔ عدالتی نطام کو پہلے سے زیادہ فعال کر دیا گیا ہے۔سڑکوں، پلوں اور عوامی افادیت کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِنو کا کام شروع ہے۔ ڈاکوؤں اور قاتلوں کو شرعی قوانین کے مطابق سزا دی گئی ہے۔ جب کہ مظلوموں کو اُن کے حقوق فراہم کیے گئے ہیں۔

گزشتہ سال افغانستان کے 41 اضلاع کے دارالحکومتوں اور ان کے علاوہ بہت سے علاقوں پر امن و شریعت کا سفید پرچم لہرا رہا ہے۔ کابل انتظامیہ نے غیرملکی جارحیت پسندوں کے ساتھ مل کر بہت کوشش کی کہ وہ ان علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لے، جن پر اب مجاہدین کا قبضہ ہے، لیکن اللہ کی خصوصی مدد اور قوم کی وسیع تر حمایت سے مجاہدین نے نہ صرف دشمن کے حملوں کو ناکام بنا دیا ہے، بلکہ اُسے ہر جھڑپ میں پسپائی پر مجبور کر کے اسے بھاری جانی و مالی نقصان سے دوچار کر رکھا ہے۔

غیرملکی حملہ آوروں اور کٹھ پتلی ایجنٹوں کو گزشتہ پندرہ سال سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ انہوں نے اپنی بھرپور طاقت کا بے دریغ استعمال کیاہے۔ اربوں ڈالر تقسیم کیے گئے ہیں۔ وحشت اور سربریت کی انتہاء کر د ی گئی ہے، مگر افغان عوام کو مغربیت کے تابع نہیں کیا جا سکا۔ افغان مجاہد قوم کا جذبۂ آزادی خاموش نہیں کرایا جا سکا۔ ظالم فریق اپنے خلاف مقدس جہاد کو کمزور کرنے کی کوششوں میں بُری طرح ناکام رہا ہے۔

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*