canadian-soldier-howard-richmond-killed-his-wife-blames

افغان جنگ میں غیرملکیوں کی نئی فتح!

آج کی بات:

 

افغان ذرائع ابلاغ نے گزشتہ روز مغربی میڈیا کے حوالے سے ایک رپورٹ شایع کی، جس میں کہا گیا تھا کہ ’افغان جنگ میں شرکت کرنے والے ایک کینیڈین فوجی اہل کار نےواپسی پر  اپنے گھر کے پانچ افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا اور پھر خود بھی خود کشی کرلی ۔‘ کینیڈین میڈیا کے مطابق سرکاری تفتیش سے پتا چلا ہے کہ مذکورہ فوجی افغانستان میں جنگ کے دوران دماغی توازن کھو بیٹھا تھا۔ اس لیے اس نے پہلے اپنے گھر کے پانچ افراد کو پستول کی گولی مار کر ہلاک کر دیا اور اس کے بعد خود کو ہلاک کر لیا۔ یہ افغان جنگ میں غیرملکیوں کی ایک نئی فتح ہے!

مذکورہ تحقیقاتی رپورٹ کینیڈین چینل ’CTV‘نے سرکاری حکام کی جانب سے شایع کی ہے۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ اب بھی افغان جنگ میں شریک 180 کینیڈین فوجی نفسیاتی اور اعصابی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ جب کہ 72 اہل کاروں نے خود کشی کی ہے۔ اس سے قبل آسٹریلین انتظامیہ برائے ’صحت و بہبود‘ نے ایک تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ افغان جنگ میں شریک اب تک 292 فوجیوں نے خودکشی کر لی ہے۔

اسی طرح دیگر مغربی ممالک بھی وقتا فوقتا اپنے فوجیوں کی نفسیاتی، اعصابی بیماریوں اور خودکشی کی رپورٹیں منظر عام پر لاتے رہتے ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغان جنگ مغرب کے لیے سیاحت، نہیں بلکہ جہنم کا ایک گڑھا ثابت ہوئی ہے۔ یہ امر بظاہر معمولی لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک پیغام ہے کہ غیرملکی حملہ آوروں اور ان کی کٹھ پتلیوں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔کیوں کہ جب 2001 میں امریکا کی سربراہی میں غیرملکی حملہ آوروں نے افغانستان پر چڑھائی کی تھی، تب انہوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ انہیں ایک دن افغانستان میں مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہیں یہ یقین نہیں تھا کہ 15 سال بعد وہ افغانستان سے شکست سے دوچار ہو کر خودکشی پر مجبور ہوں گے۔

اب یہ جنگ ایسی صورت حال اختیار کر چکی ہے کہ مغربی دجالی میڈیا نے جنگ کے آغاز پر جھوٹ پر مبنی شہ سرخیاں شایع کر کے یہ اندازہ لگایا تھا کہ چند ہفتوں میں یہ جنگ ختم ہو جائے گی اور وہ اپنے اہداف حاصل کر لیں گے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ 16 سال گزرنے کے باوجود یہ جنگ ایسی حالت میں جاری ہے کہ وہ اپنے اہداف حاصل کر پائے ہیں اور نہ ہی کوئی سیاسی یا فوجی فتح حاصل کی جا سکی ہے۔

غیرملکیوں نے افغانوں کو ایک ایسے فاسد اور خراب نظام کا تحفہ دیا ہے، جو کرپشن اور خیانت کے سبب دنیا میں پہلے نمبر پر آچکا ہے۔ حکام آپس میں بھیڑ اور بھیڑیے کی طرح رہتے ہیں۔ ان کے خلاف عوامی سطح پر نفرت میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ جارحیت پسندوں کی بمباری، ٹینک، ڈالر اور وسائل ایک منٹ کے لیے ان کے تحفظ سے دور کر دیے جائیں تو افغان عوام انہیں زندہ درگور کر دیں گے۔ جارحیت پسندوں نے تمام جدید ٹیکنالوجی افغانوں کے قتل عام پر استعمال کی ہے۔ کھربوں ڈالر ضایع کر دیے ہیں۔ اس کے باوجود وہ آج خود اعتراف کر رہے ہیں کہ افغانستان کے 60 فیصد رقبے پر ان کے مخالفین کا کنٹرول ہے۔ وہ مجاہدین کو شکست نہیں دے سکتے ہیں۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افغانستان میں ان کا مشن ناکام ہو چکا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ان کے فوجی خودکشی کر رہے ہیں۔

غیرملکی جارحیت پسند اور ان کے کٹھ پتلی ایجنٹ یہ بات نوٹ کر لیں کہ اللہ تعالی کا وعدہ کبھی جھوٹ نہیں ہو سکتا۔ حق و باطل کے درمیان یعنی ظالم جارحیت پسندوں اور مظلوم عوام کے درمیان لڑائی میں اللہ تعالی ضرور اپنے مظلوم مسلمان بندوں  کی مدد کرے گا۔ کامیابی مسلمانوں کو حاصل ہو گی۔ ظالم جارحیت پسندوں کو شکست اور ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان شاء اللہ تعالی

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*