mono

ہلمندمیں مزید 300 امریکی فوجیں بھیجوانے کے حوالے سے ترجمان کابیان

جمعہ کےروز  08/ ربیع الثانی 1438 ھ بمطابق 06 / جنوری 2017ء کو امریکی فوجی کمانڈروں نے اعلان کیا کہ موسم بہار میں صوبہ ہلمند میں اپنے غلاموں سے تعاون کی خاطر 300 امریکی فوجیں بھیجی جائیگی۔

یہ اعلان ایسے وقت میں ہورہا ہے کہ گزشتہ موسم گرما میں بھی امریکی سپیشل فورس دستے کی 100 اہلکار صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ شہر کی دفاع کے لیے بھیجی گئی تھی، جو بھاری نقصانات اٹھانے کے بعد بیسٹن نامی فوجی کیمپ کی جانب فرار ہوئیں۔

اطلاعات کے مطابق امریکی فوجی عناصر نے عام امریکی شہریوں سےخفیہ طورپر اب بھی کیمپ ڈائر (Camp Dwyer) نامی فوجی اڈے کو  ضلع گرمسیر میں  قائم کر رکھی ہے، جہاں سپیشل فورس کے سینکڑوں اہلکار تعینات ہیں۔

اس کے علاوہ صوبہ ہلمند کے شوراو کے علاقے میں بیسٹن نامی کیمپ میں سینکڑوں غاصب فوجی تعینات ہیں۔

امریکی فوجوں کے درج بالا اعداد وشمار کیساتھ ساتھ مزید امریکی فوجیں ہلمند بھیجی جائیگی اور بعد میں اعلانات صرف اس لیے کیےجاتے ہیں، کہ کابل انتظامیہ کے مزدور اور شکست خوردہ فوجیوں کو بہار تک حوصلہ افزائی دیں اور ان کے قدموں کو مضبوط کریں۔

مگر جیسا کہ امارت اسلامیہ کے سرفروش مجاہدین نے ہزاروں امریکی اور دیگر غاصب فوجوں کی موجودگی میں  پیشترفت کو جاری رکھا، تو چند سو فوجیوں کی موجودگی بھی فتوحات کی سدباب نہیں کرسکے گی۔

اگر امریکی فوجیں اپنے محفوظ پناہ گاہوں اور مراکز سے میدان جنگ میں کھود پڑیں، تو دوبدو لڑائی میں صدمہ دیکھے گی اور غلاموں کے بجائے امریکی ہی مارے جائینگے۔

ایسے اعمال اوباما کی آخری ناکام کوشش ہے،جس سے کوئی نتیجہ حاصل ہوگی اور نہ ہی امریکہ کے اندر اور عالمی سطح پر اپنی شکست کا ازالہ کرسکے گی۔ ان شاءاللہ

قاری محمد یوسف احمدی ترجمان امارت اسلامیہ

09 / ربیع الثانی 1438ھ بمطابق 07 / جنوری 2017 ء

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*