general-dempsey

امریکی جرنیلوں کا اعتراف شکست

آج کی بات:

حقیقت یہ ہے کہ امریکی حکام نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک ایسا وقت بھی آئے گا، جب جنگی کمانڈر، فوجی افسران اور عام فوجی اپنے ہی جرنیلوں اور حکام پر لعنت بھیجیں گے۔ انہیں ملامت کریں گے۔

سوویت یونین کے کمانڈر بھی اس وقت رو رہے تھے، جب وہ افغانستان میں اپنے فوجیوں کی لاشیں دیکھ کر کانپ اٹھے۔ اس وقت سوویت یونین فوج کے جنرل کمانڈر نے افغانستان سے جاتے ہوئے کہا کہ “ہم کتنے سادہ اور بے وقوف لوگ تھے کہ سوجھ بوجھ سے عاری حکمرانوں کے حکم پر افغانستان جیسے نابلد ملک پر چڑھائی کی حماقت کر بیٹھے ہیں۔”

آج ایک مقبول امریکی میگزین “فارن پالیسی” نے ایک سابق انفنٹری افسر ‘جیسون ڈیمپسی’ کے حوالے سے لکھا ہے کہ “ہمارے حکام بہت پست ذہنیت کے حامل ہیں، جنہوں نے افغانستان کو  میدان جنگ نہیں، بلکہ سیاحت کا ایک مقام تصور کیا تھا۔ اس لیے انہوں نے افغانستان کے لیے جنگ کے بجائے سیاحت کی پالیسی وضع کی تھی۔”

افغانستان میں امریکا کا فوجی مشن ناکامی سے دوچار رہا ہے اور اس ناکامی کے اسباب امریکی جرنیلوں اور سویلین حکام کی غلط پالیسیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی افواج کے سابق کماندڑ اور سابق وزیر دفاع ڈیوڈ پیٹریاس کی تمام سرگرمیاں صرف فرضی کہانیاں تھیں۔ حالانکہ وہ امریکی میڈیا میں “فوج کے والد” کے طور پر جانے جاتے تھے۔

فوجی بیوروکریسی کے جمود کے باعث امریکی عوام کا انحصار ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں پر تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا، جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو ویت نام جنگ سے سبق لینا چاہیے تھا۔ ہم نے کیوں پھر یہاں دوبارہ غلطیاں دہرائیں؟!

ڈیمپسی نے کہا:

“نئے صدر سے بھی یہ مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ افغان جنگ جیتنے کے لیے مزید فوجی بھیجنے، اضافی رقم، ایئر فورس، اسلحہ و دیگر وسائل کی فراہمی کی ضرورت ہے۔ تاہم نئے صدر کو سکیورٹی اداروں سے پوچھنا چاہیے کہ مجاہدین کیوں وسائل کی کمی کے باوجود آگے بڑھ رہے ہیں۔ وہ پیش رفت کر رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے جرنیلوں کی ذہنی سطح افغانستان کے بارے کس قدر پست ہے؟! ہمارے جرنیل آج بھی افغانستان کے بارے میں پست ذہنیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ افغانستان میں شکست سے دوچار ہیں۔”

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ امریکی اپنی شکست کا خود اعتراف کرتے ہیں۔ حالانکہ فضائی اور زمین حدود اب تک ان کے کنٹرول میں ہیں۔ جب کہ اس سے قبل بھی انہوں نے کئی بار مختلف مواقع پر اپنی شکست کا اعتراف کیا ہے۔ چند دن قبل اوباما نے بھی اعتراف کیا کہ ہم مجاہدین کو شکست نہیں دے سکتے۔ کیوں کہ اوباما کو اب یقین ہے کہ آج یا کل افغانستان سے جانا ہوگا۔ اس لیے وہ افغانستان پر اپنے غیرقانونی قبضے پر پشیمانی کا اظہار کر رہے ہیں۔

افغان مسلم قوم کا اللہ پر یقین تھا کہ ایک دن ضرور غیرملکی قابض حملہ آور شکست سے دوچار ہو جائیں گے۔ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوگی۔ آج یہی صورت حال ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اللہ نے مسلمانوں کو سرخ رو کیا ہے اور امریکا کو شکست دی ہے۔

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*