arg_masjid

امریکی ایجنٹوں کو پہنچان لیں

قاری حبیب

7اکتوبر2016کو امریکا كے افغانستان پر یلغار کو پندرہ سال ہو گئے ہیں۔ اس سیاہ دن کے موقع پر ذرائع ابلاغ میں مختلف مضامین اور تبصرے نشر کیے جا رہے ہیں۔ اس سنگین اور ناقابل معافی جرم  میں امریکا کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر افغانستان لانے والے بدنصیب ایجنٹ بے حد بدبخت ہیں، جو اپنے ہی گھر کو آگ لگا رہے ہیں۔ وہ جارحیت پسندوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو کر اپنے ہم مذہبوں کے خلاف اسلحہ اٹھائے درندگی کی مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ وہ مظلوم عوام کے خلاف سنگین جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ افغانستان پر امریکی یلغار کے دوران ہر ایک نے ببرک کارمل اور شاہ شجاع کا شرم ناک کردار ادا کیا۔ یہ سب وہ مکروہ چہرے ہیں، جنہیں پہچان میں رکھ کر ان کی عیاریوں سے بچنا ہے۔

امریکی یلغار میں صفِ اول کا کردار ادا کرنے والے بہت سے غلام آج کل اپنے آپ کو معصوم اور فرشتہ صفت سمجھتے ہیں، لیکن عوام ان کے کردار اور ماضی کے جرائم سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ان میں سے ایک حامدکرزئی ہیں، جو آج کل خود کو امریکا دشمن کے طور پر ظاہر کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ ان کی باتوں سے متاثر بھی ہیں۔ حقیقت یہ ہے اگر امریکا کے ساتھ منافق مسلمان تعاون نہ کرتے تو وہ کبھی بھی مسلم ممالک پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔

26ستمبر2001 بدھ کے روز دوپہر 12 بجے سی آئی اے کا طیارہ، جس میں 59 سالہ سینئر آفیسر ’گیری شیرون‘ سوار تھا، درہ ہندوکُش سے گزر کر پنجشیر میں اترا۔  گیری شرون نے اپنے دونوں پاؤں کے درمیان تیس لاکھ ڈالر سے بھرا ہوا بریف کیس رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے پنجشیر میں جنگجو خریدنے کے لیے ڈالر تقسیم کیے اور نام نہاد جہادی کمانڈروں اور رہنماؤں کے ضمیر خرید کر انہیں امریکی یلغار کے لیے مقدمۃ الجیش کے طور پراستعمال کیا۔ غداروں کی لسٹ سے چند اہم ضمیرفروشوں کا تذکرہ حاضرِ خدمت ہے:

ingener-aarif

انجینئر عارف سروری

انجینئر عارف سروری

انجینئر عارف شوری نظار انٹیلی جنس کا ذمہ دار تھا۔ گیری شیرون کی  پہلی ملاقات اِن سے ہوئی۔ انہیں پانچ لاکھ ڈالر دیے گئے۔ اس کے بدلے انہوں نے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ امریکی انٹیلی جنس کے ساتھ انجینئر عارف نے پہلی فرصت میں جو تعاون کیا، وہ انٹیلی جنس اہل کاروں کے تعاون سے ’سٹان‘ کے نام سے ایک مخصوص امریکی  ٹیم، جس میں GPS کے ماہرین شامل تھے، کے ساتھ کابل کے شمال میں مجاہدین کے محاذوں اور عسکری وسائل کا GPS کے ذریعے سے نشاندہی ہے، تاکہ امریکی طیاروں کو مجاہدین کے مخصوص عسکری مقامات کو نشانہ بنانے میں کامیابی ملے۔ انجینئر عارف نے شوری نظار کی انٹیلی جنس کا پورا نیٹ ورک  سی آئی اے کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ ایک ماہ میں (یعنی27 ستمبر سے 26 اکتوبر تک)  انہوں نے سی آئی اے کے لیے 400 سے زائد رپورٹیں تیار کیں، جو بعد ازاں سی آئی اے کی ٹیم کی جانب سے امریکا بھجوا دی گئیں۔

fahim_tired

محمد قسیم فهیم

محمد قسیم فہیم

قسیم فہیم نے بھی امریکی یلغار کے وقت نہایت ایمان داری سے اپنا کردار ادا کیا۔  گیری شیرون نے 27ستمبر کو پنجشیر میں ان کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں تعاون کے عوض ایک ملین ڈالر پیش کیے، جس پر انہوں نے ہرقسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ فہیم نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ شمالی اتحاد کے اہم کمانڈر بسم اللہ خان کو ہدایات جاری کریں گے کہ وہ CIA کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ فہیم نے تیس جنگجوؤں کو جاسوسی کی تربیت حاصل کرنے کے لیے سی آئی اے کے حوالے کر دیا۔ فہیم نے بہت جلد امریکیوں سے پوچھا:

’’ جنگ کب شروع ہوگی؟  آپ کب آئیں گے؟ امریکا کب حملوں کا آغاز کرے گا؟‘‘

ustad-sayyaf

استاد سیاف

استاد سیاف :

گیری شیرون نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انہوں نے دو دن بعد 29 ستمبر کو پنج شیر کے علاقہ گلبہار میں سیاف کے ساتھ ملاقات کی۔ سیاف بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے وہ ایرانی رہنما آیت اللہ خمینی ہے، لیکن عملی طور پر وہ امریکا کا دشمن نہیں، بلکہ دوست تھا۔ شیرون نے سیاف کو ایک لاکھ ڈالر دیے اور سیاف نے بھی ان کےساتھ وعدہ کیا کہ وہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو نشانہ بنانے میں امریکا سے تعاون کریں گے۔ پھر جب امریکا کی جانب سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں مجاہدین کے خلاف جنگ کا شیڈول بنایا گیا تو سیاف کو کابل کے قریبی علاقوں اور مشرقی صوبوں کی ذمہ داری سونپ دی گئی، لیکن مجاہدین کے ہاتھوں کمانڈر عبدالحق کی پھانسی نے سیاف کو اتنا خوف زدہ کر دیا کہ سی آئی اے کی جانب سے انہیں ہر قسم کے تعاون کے باجود وہ مشرقی افغانستان جانے کی جرأت نہیں کر سکا، تاکہ وہ زمینی لڑائی میں کردار ادا کر سکے۔

ڈاکٹر عبداللہ

ڈاکٹر عبداللہ

ڈاکٹر عبداللہ :

ڈاکٹرعبداللہ، احمدشاہ مسعود کا ترجمان اور ان کے زیرانتظام حساس اداروں میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ شیرون نے لکھا ہے کہ قتل سے چند ماہ قبل مسعود پاریس میں فرانسیسی انٹیلی جنس کا مہمان تھا۔ ڈاکٹر عبداللہ بطور ترجمان ان کے ہمراہ تھا۔ قسیم فہیم کے ساتھ ملاقات کے دوران وہ مترجم کا کردار ادا کر رہا تھا، لیکن جب ڈالر کی تقسیم کے وقت انہیں کچھ نہ ملا تو انہوں نے 17 اکتوبر کو پنج شیر کے علاقہ آستانہ میں گیری شرون سے ملاقات کی۔ اس دوران ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ پنج شیر کے لوگ بہت غریب ہیں، ان کی مدد کی جائے۔ گیری شیرون نے ڈاکٹرعبداللہ کو ڈھائی لاکھ ڈالر دیے۔ عبداللہ نے گیری شیرون کو سمجھایا کہ قسیم فہیم صرف فوجی کمانڈر ہے اور سیاسی معاملات کا اختیار ان کے پاس ہے۔ کیوں کہ رہنما وہ ہیں۔ وہ امریکیوں کے ساتھ سیاسی معاملات میں ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امراللہ صالح

امراللہ صالح

امراللہ صالح :

امراللہ صالح کا پہلے سے CIA کے ساتھ بہت گہرا رابطہ تھا۔ وہ سی آئی اے کے تربیت یافتہ تھے۔ وہ مسعود کے ساتھ ایک فعال جاسوس کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری ادا کرتے رہے تھے۔ انہوں نے اپنے طویل مضمون میں انکشاف کیا ہے کہ وہ امریکی حملے کے ابتدائی دور میں عملی طور پر سی آئی اے کے جاسوس اورمعلومات فراہم کرنے والی ٹیم کے سربراہ تھے۔ ایک بار امریکی سی آئی اے کے نمائندہ ’فِل‘ نے صالح سے کہا کہ پہلے کی طرح اس کی ضرورت نہیں ہے کہ خبروں کی پہلے تصدیق کریں اور اس کے بعد ہم سے شیئر کریں، کیوں کہ اب ہنگامی صورت حال ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ معلومات کو اکھٹا کرکے ان کی تصدیق کیے بغیر سی آئی اے تک پہنچانے کی کوشش کرتے رہو۔ صالح نے مزید کہا کہ فل نے مجھے بتایا کہ (دولت امریکا از شما می‌خواهد هر نوع اطلاعی که در اختیار دارید- یا به‌دست می‌آورید- با ما شریک ‏سازید. من تکرار می‌کنم هر نوع اطلاعی که دارید با ما شریک سازید‎. ‎خواهش ما این است که از تحلیل اطلاعات ابا ‏ورزید. هرچه را که می‌شنوید و به‌دست می‌آورید، به‌صورت خام و دست‌نخورده، با ما شریک سازید. دیگر در آن حالت ‏عادی قرار نداریم که اطلاعات پروسس‌شده را ترجیح دهیم. حتا تبصره‌هایی که توسط مردم عادی در افغانستان می‌شود یا ‏در دفاتر طالبان یا در صفوف جنگی آن‌ها صورت می‌گيرد، برای ما اهمیت دارد ( پس از مسعود‎ (

صالح اس کے بعد گیری شیرون کی ٹیم کا ساتھی بنا اور کابل پر قبضے کے بعد وہ امریکی انٹیلی جنس ٹیم کے ہمراہ کابل داخل ہوا۔ امراللہ صالح نے لکھا ہے کہ کابل داخل ہونے کے بعد پہلی رات امریکیوں کے ساتھ آریانہ ہوٹل میں گزاری۔ امریکی اس ہوٹل سے لطف اندوز ہوئے اور پھر اس ہوٹل کو سی آئی اے کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔

بسم اللہ خان

بسم اللہ خان

بسم اللہ خان :

بسم اللہ خان، بسم اللہ محمدی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ یہ بھی امریکیوں کے زرخرید غلام ہیں۔ انہوں نے کابل کے شمال میں مجاہدین کے خلاف امریکی  طیاروں کے سائے میں زمینی کارروائیوں کی قیادت کی تھی۔ امراللہ صالح نے لکھا کہ کابل کے شمال میں امریکی فوجیوں کا ایک دستہ ’کرنل ہاس‘ کی قیادت میں بسم اللہ خان کے شانہ بہ شانہ مجاہدین کے خلاف زمینی کارروائیوں میں مصروف تھا۔ اس دوران سی آئی اے کے اہل کاروں پر مشتمل ایک ٹیم بھی ان کے ہمراہ تھی، جو مجاہدین کے مورچوں پر امریکی طیاروں کو بمباری کے لیے اطلاعات دیتے ہوئے عسکری مقامات کی نشاندہی کرنے کی ذمہ داری ادا کر رہی تھی۔ جب کئی ہفتوں تک مجاہدین کے مورچوں پر بمباری کے باوجود بھی انہیں شکست نہ دے سکے اور وہ مایوس ہوئے تو شمالی اتحاد کے سربراہ برہان الدین ربانی نے امریکیوں سے پوچھا کہ افغانستان میں بڑے بڑے بم مجاہدین پر گرائے، تاکہ ان کی مزاحمت کو کچل دیا جائے۔

بسم اللہ خان نے کابل پر قبضے کے بعد تورابورا میں بھی امریکیوں کے شانہ بہ شانہ مجاہدین کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیا اور ان کے ایک اور کمانڈر گل حیدر نے پکتیا کے شاہی کوٹ میں اپنے کارندوں کے ساتھ مل کر مجاہدین کے خلاف زمینی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔

حامد کرزئی

حامد کرزئی

حامد کرزئی :

حامد کرزئی آج کل خود کو امریکا مخالف کے طور پر پیش کر رہے ہیں، لیکن ہمیں وہ وقت اچھی طرح یاد ہے کہ نائن الیون سے قبل امریکیوں کے ان کے ساتھ مضبوط روابط تھے اور یہ امریکی سفارت خانے سے تنخواہ وصول کر رہے تھے۔ سی آئی اے کے اسٹیشن چیف رابرٹ گرینر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ نائن الیون سے قبل اگست 2001ء میں حامدکرزئی کے لوگوں نے قندھار میں مجاہدین کے خلاف وائٹ پیپر جاری کیا تھا، جو سی آئی اے کی جانب سے انہیں دیا گیا تھا۔

11ستمبر کے واقعے کے بعد حامدکرزئی ان ابتدائی افراد میں سے تھے، جنہوں نے امریکی یلغار میں ہر ممکن تعاون کیا اور سی آئی اے سے ملاقاتوں میں منصوبہ بندی کے بعد صوبہ اروزگان جا کر امارت کی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ کرزئی کے ساتھ امریکا فضائی راستے سے ہتھیار، خوراک اور نقد رقم کی امداد کر رہا تھا۔ اس کے بعد فاکس تروت کے نام سے ایک خاص انٹیلی جنس ٹیم (جس کی قیادت گریگ نامی شخص کر رہا تھا) کو اروزگان بھیجا، تاکہ وہ حامدکرزئی کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کرے۔ کرزئی  بالآخر مجاہدین کے زوال کے بعد امریکی ٹینک پر سوار قندہار شہر میں داخل ہوا ۔

گل آغا شیرزئی

گل آغا شیرزئی

گل آغا شیرزئی :

رابرٹ گرینر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ مَیں افغانستان پر حملے کے چند دنوں کے بعد سی آئی اے کے دو کارکن مارک اور گریگ آر کے ہمراہ کوئٹہ چلا گیا۔ ہم نے وہاں گل آغا شیرزئی اور ان کے بھتیجے انجینئر یوسف پشتون کے ساتھ ملاقات کی۔ انہوں نے ہم سے ہتھیاروں کی فراہمی کا مطالبہ کیا، تاکہ وہ امریکی فضائی حملوں کے ساتھ ہی مجاہدین کے خلاف زمینی کارروائی شروع کریں۔ اس کے بعد گل آغا شیرزئی اور ان کے ساتھیوں؛ انجینئریوسف، اکرم خاکریزوال اور خالد پشتون نے رسمی طور پر سی آئی اے کی حمایت سے جنگ میں حصہ لینے کے لیے آمادگی ظاہر کی۔

گل آغا شیرزئی اور انجینئرپشتون نے 29اکتوبر کو امریکی جنرل ٹامی فرینکس سے ملاقات کی، جس کے بعد ان کے لیے ہتھیار خرید کر سپین بولدک کے راستے افغانستان منتقل کئے گئے۔ قندہار پر قبضہ کرنے تک ایکو نامی سی آئی اے کی ٹیم  بھی ان کے ساتھ رہی، جو مجاہدین پر بمباری کے وقت معلومات فراہم کر رہی تھی۔

رشید دوستم

رشید دوستم

رشید دوستم :

امریکا نے جنوبی صوبوں کی طرح شمال کی طرف بھی کچھ کمانڈروں کو زمینی کارروائی کے لیے بھرتی کیا تھا۔ رشید دوستم نے امریکا کی رہنمائی پر درۂ صوف میں اپنی قوم کے لوگوں کو جمع کیا، جس میں سی آئی اے کی خصوصی ٹیم الفا نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے درۂ صوف میں مجاہدین کے جنگی محاذ پر لڑائی کا آغاز کیا۔ اس وقت امریکا نے ازبکستان سے ملحق خان آباد قریشی ہوائی اڈہ کرائے پر لے لیا۔ امریکا نے اسی اڈے سے دوستم کو ہتھیار، خوراک، پیسے اور گھوڑوں کے لیے چارہ اور گھاس پیک کر کے پیراشوٹ کے ذریعے فراہم کیا تھا۔ گرینر نے اپنی کتاب میں مضحکہ خیز کہانی بھی لکھی ہے کہ ایک دن گل آغا شیرزئی کو کھانے کے بجائے  دوستم کے گھوڑوں کا چارہ اور گھاس پیراشوٹ میں بھیجا گیا تھا۔ دوستم نے سی آئی اے کے حکام سے مل کر مزارشریف میں مجاہدین، خاص طور پر غیرافغانی مجاہدین اور مہاجرین کا قتل عام کیا۔ سی آئی اے کے حکام مائیک وائٹ اور ڈیوڈ ٹایسن کو جنرل دوستم سمیت مزارشریف کے قلعہ جنگی  میں قتل عام کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

عطاء محمد نور

عطاء محمد نور

عطاء محمد نور :

دوستم کے علاوہ کمانڈر عطاء محمد نور بھی امریکیوں کا مہرہ تھا، جو شمالی صوبوں میں مجاہدین کے خلاف برسرپیکار تھا۔ گیری شیرون نے لکھا ہے کہ 17 اکتوبر تک سی آئی اے کی ٹیم کے رہنماؤں کو عطاء محمد نور سے ملاقات کرنا چاہیے تھی، لیکن افغانستان نہ پہنچنے کے باعث یہ ملاقات نہ ہو سکی۔ اس لیے عطاء نور سخت اداس تھا اور وہ اپنے غصے کے اظہار کے لیے دوستم کے خلاف اقدام اٹھانے کا سوچ رہا تھا۔ ہم نے ان کو منانے کے لیے پنج شیر میں قسیم فہیم کے ذریعے انہیں 250ڈالر بھجوائے۔ اس کے بعد بریوو  نامی سی آئی اے کی ٹیم عطاء محمد نور کے ساتھ ملی۔ عطاء نور اور دوستم نے بلخ کے درۂ صوف میں مجاہدین کے خلاف حملوں کا آغاز کر دیا، لیکن انہوں نے کوئی پیش رفت نہیں کی۔ مجاہدین نے درۂ صوف میں شدید مزاحمت کی۔ دوماہ کے قریب مزاحمت کے بعد امریکیوں نے مجاہدین کی فرنٹ لائن پر خطرناک زہریلے بموں کی بارش کر دی، جس سے مجاہدین کو قتل عام کا سامنا کرنا پڑا اور فرنٹ لائن سے پسپائی اختیار کر لی۔ درۂ صوف میں مجاہدین کی فرنٹ لائن ٹوٹنے کے بعد دیگر محاذوں سے بھی پسپائی اختیار کر لی۔ تخار اور پھر کابل کی دفاعی لائن سے بھی مجاہدین پیچھے ہٹ گئے۔

کریم خلیلی

کریم خلیلی

کریم خلیلی :

کریم خلیلی کو صوبہ بامیان میں مجاہدین کے خلاف زمینی کارروائی کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ ان کے ہمراہ بھی سی آئی اے کی خصوصی ٹیم سرگرم تھی، جو امریکی طیاروں کو معلومات فراہم کر رہی تھی، لیکن کریم خلیلی مجاہدین کے خوف سے ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کرنے کی جرأت نہیں کر سکا تھا۔ جب مجاہدین نے کنٹرول چھوڑ دیا، تب امریکا کو بامیان پر کنٹرول مل سکا۔

شیعوں میں اہم امریکی غلاموں کی فہرست میں ایک نام محمدمحقق ہے۔ انہوں نے سرپل کے علاقے بلخاب میں مجاہدین کے خلاف محاذ کھول دیا تھا اور امریکا کے زیر سایہ لڑ رہے تھے۔ صوبہ پروان کی شیعہ آبادی پر مشتمل علاقوں میں مصطفی کاظمی اور سید حسین انوری نے امریکا سے نقد رقم اور پیراشوٹ کا سامان وصول کیا۔ سید حسین سے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے لوگر اور گردیز میں شیعہ مسلک کے لوگوں کو امریکی ڈالر دے کر کرائے پر لیا تھا، تاکہ وہ جنوب مشرق میں سی آئی اے کے لیے مجاہدین کے خلاف جاسوسی کی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے حقِ نمک ادا کرتے ہوئے انہی علاقوں میں بہت سارے عرب مجاہدین کو امریکا کے ہاتھوں شہید اور گرفتار کروایا۔

اسماعیل خان

اسماعیل خان

اسماعیل خان :

افغانستان کے مغرب میں امریکا کے لیے قابل قدر ایجنٹ اسماعیل خان تھا، جنہوں نے سی آئی اے کی خصوصی ٹیم ’چارلی‘سے مل کر مغربی صوبوں میں ایرانی سرحد کے ایک سو کلومیٹر دورمجاہدین کے خلاف محاذ کھول دیا۔ اس کے علاوہ صوبہ غور میں ڈاکٹر ابراہیم غوری اور صوبہ فاریاب میں کمانڈر احمد خان مرغابی نے امریکیوں کے ساتھ تعاون سے مجاہدین کے خلاف زمینی جنگ کا آغاز کیا۔ امریکا نے انہیں ڈالر دیے اور پیراشوٹ کے ذریعے  ہتھیار، خوراک اور گھوڑوں کے لیے پانی اور گھاس فراہم کیا جاتا تھا۔

abdul-haq-qomandan

کمانڈر عبد الحق

کمانڈر عبد الحق :

’جنگ کنکال‘ نامی  کتاب میں لکھا ہے کہ عبدالحق بہت پہلے برطانوی انٹیلی جنس MI-6 کے ساتھ کام کرتا تھا۔ مئی 1981ء میں سی آئی اے کے ایک افسر ہاورڈ ہارٹ کے ساتھ ان کا رابطہ ہوا اور اس کے بعد سی آئی اے کے لیے باقاعدہ کام شروع کیا۔ وہ گیارہ ستمبر سے پہلے دبئی میں تجارت کرتا تھا۔ جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کی منصوبہ بندی کی تو انہیں ایک بار پھر بھرتی کیا، تاکہ وہ مشرقی افغانستان میں امریکا کے لیے راہ ہموار کر سکے۔ امریکا نے انہیں ڈالر دیے اور مشرقی صوبوں میں مجاہدین کی حکومت کے خاتمے کے بعد خلا کو پُر کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ کیوں کہ امریکیوں کو پتا تھا کہ وہ لوگوں کو مجاہدین کے خلاف بغاوت پر اُکسانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کی صلاحیت کے مطابق اس سے کام لیا جائے گا، لیکن عبدالحق امریکا کی تجویز اور مشورہ کے برعکس 19 رکنی وفد کے ہمراہ افغانستان گیا، جنہیں صوبہ لوگر کے ضلع ازرہ میں مجاہدین نے گرفتار کر کے پھانسی پر لٹکا دیا۔ امریکا نے ان کی رہائی کے لیے بہت کوشش کی اور بغیر پائلٹ طیارہ بھی بجھوایا، لیکن وہ تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

کچھ اور ایجنٹ :

مذکورہ افراد میں اکثر وہ لوگ شامل ہیں، جو امریکی یلغار کے دوران اہم ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔ امریکیوں کے ساتھ ان کے براہ راست تعلقات اور روابط تھے۔ حتی کہ وہ امریکی مشیر کے حکم اور فرمان پر آگے بڑھ رہے تھے اور ان کے علاوہ کچھ ایسے درمیانے اور نچلی سطح کے کمانڈر تھے، جو امریکی طیاروں کے سائے تلے اپنے دین اور عوام کے خلاف لڑتے تھے۔ اپنے وطن کے خلاف جارحیت پسندوں کی مدد کر رہے تھے۔

مثال کے طور پر شمالی اتحاد میں فرخار محاذ اور تخار پر قبضے کی ذمہ داری کمانڈر داؤد کو دی گئی تھی۔ ان کی مدد کے لیے مولانا سیدخیلی اور کمانڈر گدا پنج شیری کی قیادت میں چند ہزار اضافی فوجیوں کو بھی پنج شیر سے بھیج دیا گیا۔ انہوں نے صوبہ تخار کے خواجہ غار میں مجاہدین کی فرنٹ لائن پر امریکی طیاروں کی وحشیانہ بمباری کے ساتھ ہی زمینی جنگ بھی شروع کر دی۔ دوسری جانب  شمالی تخار میں مطلب بیگ، پیرم قل، کبیرمرزبان، پیرمحمد تالقانی، بشیر چاہ آبی اور کچھ دوسرے کمانڈروں کو امریکا نے یہ ذمہ داری دی کہ طیاروں کی بمباری کے بعد مجاہدین کے مورچوں پر زمینی جنگ شروع کریں۔

پکتیا کے علاقے میں پاچا خان زدران نے مجاہدین کے بعد صوبہ خوست پر قبضہ کیا اور بعد ازاں ان کے بیٹے عبدالولی زدران شاہی کوٹ میں امریکیوں کے شانہ بہ شانہ مجاہدین کے خلاف جنگ میں حصہ لے رہے تھے۔ ننگرہار میں حضرت علی اور زمان نے مجاہدین کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور بعد ازاں امریکیوں کی حمایت جاری رکھی۔ صوبہ نیمروز میں مشہور اسمگلر جمعہ خان بلوچ اور عبدالکریم براہوی امریکی انٹیلی جنس کے ساتھ رابطے میں تھے۔ گرینر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انہوں نے امریکیوں سے کہا تھا کہ وہ ریگستان میں عرب شکاریوں کی جانب سے  تعمیرشدہ ہوائی اڈے کو مجاہدین کے خلاف استعمال کریں۔

مذکوہ افراد اور کچھ دوسرے لوگ ایسے ہیں، جو اُخروی زندگی میں رسوائی کے علاوہ دنیا میں بھی عوام اور تاریخ کے سامنے ذلیل ہو گئے۔ کیوں کہ وہ اپنے ملک اور ایمان کے غدار ہیں۔ تاریخ میں انہیں میرجعفر اور میرصادق کے نام سے یاد کیا جائے گا۔

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*