taliban

دوہزار سولہ؛ شکست خوردہ قابض و افغان فوج

آج کی بات:

سال 2016 کے ابتدائی 3 ماہ “عزم” اور  9 مہینے “عمری” آپریشن جاری رہا ہے۔ امارت اسلامیہ کے سرفروش سپاہیوں اور جانثار مجاہدین نے افغانستان بھر میں قابض قوتوں اور ان کے کٹھ پتلی ایجنٹوں کی درندگی کو لگام دے رکھی تھی۔ جس سے مجاہدین کو عظیم فتوحات ملی ہیں۔ مجاہدین نے نہ صرف اپنے ٹھکانوں اور 80 فیصد مفتوحہ علاقوں کا بھرپور دفاع  کیا، بلکہ درجنوں اضلاع، سیکڑوں فوجی مراکز اور اڈوں پر کامیاب کنٹرول حاصل کر کے انہیں کٹھ پتلی انتظامیہ کے تسلط سے آزاد کرایا ہے۔

کابل کی فرسودہ اور غلام حکومت نے گزشتہ سال کے ابتداء میں اپنے امریکی آقاؤں کے سامنے سینہ تان کر دعوی کیا تھا کہ اگر وہ ان کے ساتھ ڈالروں اور فوجی ساز و سامان کی مدد جاری رکھیں، ایئر فورس کا تعاون بھی دستیاب رہے تو وہ پورے ملک میں اپنی جڑیں مضبوط کر سکتی ہے۔ جب کہ مجاہدین کو ان علاقوں سے بے دخل کیا جائے گا، جو اب تک ان کنٹرول میں ہیں۔

اس درخواست پر امریکا اور نیٹو نے اکتوبر میں برسلز میں اجلاس بلایا۔ جس میں “کابل انتظامیہ کی سیاسی و فوجی حمایت کے علاوہ 15 ارب ڈالر امداد کا سلسلہ وار اعلان بھی کیا، لیکن شرط یہ عائد کر دی کہ وہ مجاہدین کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا آغاز کرے۔”

لیکن اللہ تعالی کی مدد سے مجاہدین نے کٹھ پتلیوں کے تمام منصوبوں اور چالوں کو نہ صرف ناکام بنا دیا، بلکہ افغانستان بھر میں مفتوحہ علاقوں کا بھر پور دفاع بھی کیا گیا۔ جب کہ مزید پیش رفت کرتے ہوئے دشمن کے تمام فوجی مراکز اور اڈوں پر تابڑ توڑ حملے کیے ہیں۔ اہم صوبوں کے دارالحکومتوں اور اضلاع کو گھیرے میں لیا ہے۔ بہت سے اضلاع پر امن اور شریعت کا سفید پرچم لہرا دیا گیا ہے۔ بگرام ہوائی اڈے سمیت افغانستان بھر میں دشمن کو اس کے محفوظ ٹھکانوں میں عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے۔ کابل حکومت کے بے شمار اہم اور خطرناک عہدے داروں کو گوریلا حملوں اور کارروائیوں میں ہلاک کیا گیا ہے۔

مجاہدین نے مغرور دشمن کے کئی جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کو بھی مار گرایا ہے۔ حالانکہ دشمن کا خیال تھا کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین کبھی بھی جدید ٹیکنالوجی سے لیس امریکی فضائیہ کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں، لیکن گزشتہ سال کے دوران مجاہدین نے امریکی ایف 16 اور 10 کے قریب ہیلی کاپٹروں کو مختلف مقامات پر مار گرایا ہے۔

دوسری جانب کابل انتظامیہ اور اس کے آقاؤں نے بار بار یہ دعوے کیے کہ قندوز شہر پر مجاہدین کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ جب کہ ہلمند میں مجایدین کی پیش رفت کا راستہ روک دیا گیا ہے۔

اللہ تعالی نے اسلام و ملک دشمنوں کے تمام بلند و بانگ دعووں کو جھوٹ ثابت کر دیا ہے۔ امارت اسلامیہ کے جانثار مجاہدین نے قندوز اور ہلمند میں کلیئرنگ آپریشن کا آغاز کیا ہے۔ بہت کم وسائل کے ساتھ چار گھنٹوں کے دوران قندوز شہر کو دوبارہ فتح کیا ہے اور نیشنل آرمی، ملیشیا اور پولیس کے 12 ہزار اہل کاروں کو بہت آسانی سے قندوز سے بے دخل اور فرار ہونے پر مجبور کیا ہے۔

اسی طرح ہلمند کے دفاع کے لیے کابل انتظامیہ نے وہاں موجود 40 ہزار اہل کاروں پر مشتمل خصوصی یونٹوں کو فوج کی مدد کے لیے بھیجا، لیکن اللہ تعالی نے مغرور دشمن کو ایسی شکست اور رسوائی سے دوچار کیا کہ نہ صرف اس کو تمام اضلاع سے پسپائی اختیار کرنا پڑی، بلکہ ہزاروں فوجی تمام تر فوجی آلات اور ہتھیاروں سمیت مجاہدین کے سامنے سرنڈر ہو کر امارت اسلامیہ کی صف میں شامل ہوگئے۔ جب کہ مجاہدین صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ تک پہنچ گئے ہیں۔ مجاہدین نے لشکرگاہ کے زون پانچ پر بھی دھاوا بول رکھا ہے۔ یوں مجموعی طور پر ہلمند میں بھی دشمن کو تاریخی شکست اور ذلت سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

بگرام ائیربیس پر تین بار مجاہدین نے اہم آپریشنز کیے اور ہر بار بہت سے امریکیوں کو ہلاک کیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان تینوں حملوں میں سو سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

کابل ائیربیس کے قریب قابض فوجیوں کے کیمپ باران پر مجاہدین نے حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کابل حکومت کے اہم اور حساس انٹیلی جنس سینٹر “10” کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے۔ سیکڑوں جاسوسوں اور سینئر انٹیلی جنس افسران کو ہلاک کیا گیا ہے۔ وزارت دفاع کی عمارت کے سامنے اہم جرنیلوں کو ٹارگٹ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔ اسی دن کابل شہر کے علاقے “شہرنو” میں اہم انٹیلی جنس سینٹر پر حملہ کیا گیا، جس میں پانچ جرنیلوں سمیت درجنوں فوجی ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ افغانستان کے مختلف حصوں اروزگان، بغلان، ننگرہار، پکتیا، فراہ، فاریاب، نورستان اور دیگر صوبوں میں دشمن کا قلع قمع کر کے متعدد اضلاع، سیکڑوں فوجی اڈوں اور وسیع علاقے پر مجاہدین نے اپنا کنٹرول مکمل کر لیا ہے۔

اسی طرح افغانستان کے ہر کونے میں غیرملکی حملہ آور اور کٹھ پتلی انتظامیہ مجاہدین کے شدید حملوں اور دباؤ میں رہی ہے۔ کابل شہر کے علاوہ دیگر صوبوں اور اضلاع پر مجاہدین براہ راست حاکم ہیں یا جن اضلاع  کی ضلعی عمارتوں پر حکومت کا کنٹرول ہے، دشمن وہاں مجاہدین کے خوف سے عمارتوں سے باہر نقل و حرکت کرنے سے قاصر ہے، بلکہ سب انہی سرکاری عمارتوں میں محصور ہیں۔

گذشتہ سال عظیم فتوحات اور ہر میدان میں پیش رفت نے اسلام کے ازلی دشمنوں پر یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ امارت اسلامیہ کو ناقابل تسخیر قوت کے طور پر تسلیم کرنے کا خود اعتراف کرے۔ امریکی صدر اوباما نے چند ہفتے پہلے امریکی فوج اور سکیورٹی اداروں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ان کا فوجی مشن ناکامی سے دوچار رہا ہے۔ ڈیڑھ دہائی جنگ کے بعد بھی امریکا اس میں کامیاب نہیں رہا کہ وہ مجاہدین کو شکست دے سکے۔ اس کے بعد امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے ایک جاری کردہ رپورٹ میں کہا کہ افغان قومی فوج اور سکیورٹی فورسز مجاہدین کا مقابلہ کرنے اور علاقوں پر اپنا کنڑول برقرار رکھنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔

فو ہزار سولہ کے دوران امریکا، نیٹو اور کابل انتظامیہ کو افغانستان میں ہر قسم کی شکست، ذلت اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سیکڑوں غیرملکی فوجیوں اور ہزاروں افغان مزدور اہل کاروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ افغانستان بھر میں وسیع و عریض علاقے ان کے کنٹرول سے نکل گئے ییں۔ عالمی سطح پر امریکا سمیت دوستوں اور دشمنوں نے اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے کہ امارت اسلامیہ ناقابل تسخیر فوجی اور سیاسی قوت بن چکی ہے۔ اسے شکست دینا اب ناممکن ہے۔ اب نیٹو اور امریکا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لہذا سمجھداری یہ ہے کہ وہ افغانستان پر قبضے سے دست بردار ہو کر امارت اسلامیہ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں۔

امید ہے اسلام، انسانیت اور افغانوں کے دشمن ایک دن ضرور رسوا اور ذلیل ہو کر رہیں گے۔ ان کی سازشیں اور چالیں دم توڑ دیں گی۔ ہم دعاگو ہیں کہ افغانستان پر ایک بار پھر اسلام اور امن کا سفید پرچم لہرا دیا جائے گا۔ مظلوم افغان عوام قابض استعماری قوتوں کے ظلم و سربریت سے ہمیشہ کے لیے نجات پائیں گے۔

ان شاءاللہ

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*