monogram_of_the_islamic_emirate_of_afghanistan

دشمن کی جانب سے جعلی تحریرنامے، پروپیگنڈہ اورناکام کوششوں کے حوالے سے ترجمان کا بیان

کابل انتظامیہ کے غلام خفیہ نیٹ ورک کی جانب سے حالیہ دنوں میں ملک کے بعض صوبوں اور علاقوں میں چند جعلی تحریرنامے چھپ اور مرتب کرنے کے بعد عوام میں تشویش ڈالنے کی خاطر جگہ جگہ میں پھینکے جارہے ہیں۔

چند روز قبل ایسی پروپیگنڈہ پر مبنی تحریرنامہ شائع ہوئی،جس میں امارت اسلامیہ کی عدالتوں کے چیئرمین  اور رہبری شوری کے رکن شیخ الحدیث مولوی عبدالحکیم صاحب کے حوالے سے بےبنیاد باتیں لکھی گئی تھی، اس کےبعد ایک اور تحریرنامہ  پکتیا، خوست، پکتیکا اور لوگر صوبوں میں تقسیم کی گئی، جو بعض اینٹلی جنس عناصر کو منسوب تھی اور اس میں امارت اسلامیہ کی قیادت کے متعلق پروپیگنڈہ لکھی ہوئی تھی۔ اسی طرح متعدد صوبوں میں کابل انتطامیہ کے خفیہ ادارے کی جانب سے جعلی انتباہی خطوط ، شب ناموں، دھمکیوں   کے عنوان سے ایک اور جعلی تحریرنامہ مرتب اور اپنے مخبروں کو ذمہ داری سونپی گئی تھی، کہ ایسے تحریر نامے کو مجاہدین کے نام سے عوام میں تقیسم اور پروپیگنڈے پھیلا دیں۔

نیز دو روز قبل کابل یونیورسٹی کے بعض اساتذہ اور دیگر بااثر اشخاص کو فون کےذریعے دھمکیاں دی گئی تھیں اور فون کرنے والے افراد نے خود کو امارت اسلامیہ سے منسوب کیے تھے۔

امارت اسلامیہ تمام ایسی جعلی اقدامات کی پرزور تردید کرتے ہیں۔ ہم خفیہ طور پر کسی کو متنبہ کرتے ہیں اور نہ ہی دھمکی دیتے ہیں۔ اگر اس طرح کوئی ضرورت پیش آئی ، کہ ہم کسی کو منتبہ کریں، تو اسے ترجمان، آفیشل ویب سائٹ اور دیگر  سرکاری نشریاتی چینلوں سے مطع کرتے ہیں، اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے انتباہی خطوط، تحریرناموں کی اشاعت، عوام میں تشویش پھیلانا وغیرہ  تمام اعمال کابل انتظامیہ کی اینٹلی جنس عناصر  کی جانب سے سامنے آتے ہیں۔ کابل انتظامیہ میدان جنگ میں اپنی شکست اور ناکامی کو چھپانے کے لیے اس طرح بزدلانہ اور نامردانہ ا فعال سے اپنی تلافی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہم عوام، بااثرشخصیات اور متنبہ افراد سے مطالبہ کرتے ہیں، اس طرح جعل سازی کو کوئی اہمیت نہ دیں اور خاص طور پر میڈیا کو بتاتے ہیں، ایسی اینٹلی جنس مقاصد کے حصول کے لیے کردار ادا نہ کریں اور دشمنوں کے اینٹلی  جنس ایجنسیوں کے حوالے سے پروپیگنڈہ پھیلانے سے فی الفور اجتناب کریں۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ

03/ ربیع الثانی 1438 ھ بمطابق 02/ جنوری 2017ء

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*