badri-lashkar666-mp4_snapshot_00-13-47_2016-11-20_07-38-18

مجاہدین کامیاب یا ناکام؟

قاری سعید

ایک امریکا نواز ویب سائٹ میں ایک مضمون نظر سے گزرا، جس کا عنوان تھا: ’طالب! خدا کی قسم تم ناکام ہو…!‘ مَیں نے چاہا کہ مضمون پڑھ لوں، تاکہ افغانستان میں موجودہ صورتِ حال کے حوالے سے مجاہدین کی ناکامی کے اسباب سے آگاہی ہو جائے۔

مَیں نے مضمون پڑھا۔ اس میں کامیابی اور ناکامی کے بارے میں مضمون نگار کی رائے اور درج کیے گئے دلائل بہت کمزور اور غیرمعقول تھے۔ مضمون نگار نے لکھا تھا کہ افغانستان کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور وہ نہیں چاہتیں کہ یہاں مجاہدین کی حکومت ہو۔ کیوں کہ مجاہدین انہیں حقوق نہیں دیتے ہیں۔ بقیہ نصف آبادی بچوں اور بزرگوں پر مشتمل ہے، جن کا کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے۔ بقیہ نصف میں زیادہ تر لوگ مجاہدین کے مخالف ہیں، جب کہ ان کے حامی بہت کم ہیں۔ اس حساب سے مضمون نگار کے تجزیے کے مطابق افغانستان کے صرف 12 فیصد لوگ مجاہدین کے حامی اور 88 فیصد مخالف ہیں۔ اس لیے انہوں نے قسم کھا کر دعوی کیا کہ مجاہدین کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں۔

دوسری دلیل انہوں نے یہ پیش کی کہ مجاہدین کی تعداد بہت کم اور ان کے وسائل بہت محدود ہیں، جب کہ ان کے مقابلے میں دنیا کی لاکھوں افواج مدمقابل ہیں، جن کے پاس جوہری ہتھیاروں، میزائلوں اور طیاروں کی فراوانی ہے۔ امریکا کی ایک کمپنی گوگل یا مائیکروسافٹ کی سالانہ آمدنی مجاہدین کی پوری معیشت سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس صورت حال میں مجاہدین کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟ مذکورہ مضمون کے سادہ لکھاری کے جواب میں خیال آیا کہ ایک تحریر میں اس مضمون نگار جیسے دیگر لکھاریوں کے فلسفۂ کامیابی کی تشریح واضح کروں، کیوں کہ آج کل لوگ دنیا کے ظاہری اسباب کو دیکھتے ہیں اور مادہ پرستی کے اس دور میں مسلمان بھی روحانیت اور اس کی حقیقی برکت سے غافل ہو چکے ہیں۔ آج کے دور میں لوگ کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ ظاہری وسائل کو دیکھ کرتے ہیں۔ اس لیے وہ حقیقی اسباب کو نظرانداز کر کے غلط فہمی کا شکار ہیں۔

کامیابی منزل مقصود تک پہنچنے کا نام ہے۔ جس کو عربی میں ’فوز‘ یا ’فلاح‘ کہا جاتا ہے۔ دنیا میں کامیابی کا لفظ مختلف مواقع پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلا کلاس میں کامیابی حاصل کرنا، علم میں کامیابی حاصل کرنا، روزمرہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنا، گھریلو زندگی میں کامیابی حاصل کرنا، الیکشن میں کامیاب ہونا، جنگ میں کامیابی حاصل کرنا وغیرہ۔ البتہ جب صرف ’کامیابی‘ کا ذکر ہوتا ہے تو اس کا مطلب حقیقی کامیابی اور اللہ کے امتحان میں سرخ رُو ہونا ہے۔ یہ وہ کامیابی ہے کہ انسان عملی زندگی کے مرحلے میں داخل ہو کر اس سفر کو جاری رکھتا ہے۔ اگر اس نے اللہ کے احکامات پر عمل کیا تھا اور منکرات سے اجتناب کیا تھا تو وہ کامیاب ہے۔ روزِ محشر اللہ تعالی کے حضور میں تمام انسانیت کے سامنے امتحان کے نتائج کا اعلان کیا جائے گا تو وہ امتحان میں کامیابی کے بعد ہشاش بشاش نظر آئے گا۔ اگرچہ دنیا میں وہ مغلوب، پریشان اور مصیبتوں میں گھرا ہوا تھا۔

حقیقی کامیابی کا معیار یہ ہے کہ کوئی انسان قرآن پاک کے احکامات اور شرعی قوانین کے مطابق زندگی گزارے۔ اس کا کردار شریعت کے موافق ہو، تب وہ کامیاب ہوسکتا ہے۔ اگر اس کا کردار شریعت کے موافق ہے، اگرچہ دنیا میں کمزور کیوں نہ ہو، لیکن اخروی زندگی کے لحاظ سے وہ کامیاب کہلائے گا اور وہ روزِمحشر کامیاب لوگوں کی صف میں کھڑا ہوگا۔ یہاں چند مثالوں پر غور کرتے ہیں: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قبیلے کے لوگ آئے۔ آپ علیہ السلام سے درخواست کی کہ ہمارے ساتھ صحابہ کرام کو بھیج دیا جائے، تاکہ وہ ہمیں دین سکھائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر صحابہ کرام کو بھیجا۔ جن میں حضرت انس حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ اس قبیلے نے غداری کی اور ان تمام صحابہ کرام کو شہید کردیا ۔ اس موقع پر ایک کافر نے حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو پیچھے کی جانب سے نیزے سے مارا، انہوں نے شہادت سے قبل کہا: فزت و رب الکعبہ ۔ ربِ کعبہ کی قسم، مَیں کامیاب ہوا۔

شہادت کے وقت شہید کو جنت دکھائی جاتی ہے۔ اس لیے صحابی نے جنت دیکھتے ہی اپنی کامیابی کا اعلان کیا۔ اگرچہ وہ مظلوم تھے، لیکن اپنی تمام تر مظلومیت کے باجود انہوں نے خود کو کامیاب قرار دیا اور قسم کھا کر کہا کہ مَیں کامیاب ہوگیا ۔

اگر ظاہراً دیکھا جائے تو یہ تمام صحابہ کرام مغلوب تھے۔ سب کو شہید کر دیا گیا۔ انہیں دعوت اسلام کے لیے بھیجا گیا تھا، لیکن دعوت سے قبل سب کو شہید کر دیا گیا۔ اگر اس کا روحانی پہلو دیکھیں تو وہ سب کامیاب ہیں، کیوں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کیا اور قرآن کی خدمت کرنے کی راہ میں مارے گئے۔ وہ دنیا کی نظر میں مغلوب اور مظلوم تھے، لیکن اللہ کے نزدیک کامیاب ہیں۔

عاشورہ کا دن ہمیں کربلا کا واقعہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا تاریخی کارنامہ یاد دلاتا ہے، جو پوری امت کے لیے ایک تاریخی سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ چند محدود ساتھیوں سمیت اپنے وقت کے ظالم، جابر اور نااہل حکمران یزید کے خلاف میدان میں کھڑے ہوئے ۔ کربلا کے میدان میں اپنے 72 ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کیا۔ مسلمان جب واقعہ کربلا کا ذکر کرتے ہیں تو وہ یہ نہیں کہتے کہ امام حسین رضی اللہ نے شکست کھائی، بلکہ امت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ وہ کامیاب ہوئے۔ کیوں کہ انہوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی اور مسلمانوں کو جابر اور ظالم حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہنے اور ان کے ظلم کے مقابلے میں سر اُٹھا کر جینے کا درس دیا۔ بظاہر انہیں راستے سے ہٹایا گیا، لیکن حقیقت میں وہی کامیاب تھے۔

امارت اسلامیہ موجودہ جہاد کے بارے میں کامیابی کی دہلیز پر پہنچ چکی ہے، کیوں کہ پے درپے فتوحات، مجاہدین کا اخلاص، افرادی قوت اور اتحاد، عوام کی بھرپور حمایت، اسی فیصد رقبے پر حکومت اور مدمقابل دشمن کی صفوں میں شدید اختلافات و مسلسل شکست اس بات کا ثبوت ہے کہ امارت کامیاب ہے۔ ہمیں امید ہے جلد باقی علاقوں پر بھی امن کا سفید پرچم لہرائے گا۔  اسلامی نظام نافذ ہوگا۔ استعماری قوتیں ذلت آمیز شکست سے دوچار ہو کر بھاگ نکلیں گی۔

اگر خدا نخواستہ مجاہدین کے ہاتھوں کفریہ قوتوں کے مقدر میں شکست نہ ہو تو پھر بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ مجاہدین کامیاب ہیں، کیوں کہ وہ راہِ حق کے سپاہی ہیں۔ ان کا مؤقف فلسفۂ اسلام کا عکاس ہے۔ موجودہ پُرفتن دور میں ان کا مشن بہت مقدس ہے۔ وہ جہاد جیسی سخت ترین عبادت میں مصروف ہیں۔ شہادت اور فتوحات ان کی تمنا ہے۔ انہوں نے صحیح راستے کا انتخاب کیا ہے۔ وہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے بلاعوض اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں، جو بلاشبہ اللہ کے نزدیک بہت نیک عمل ہے۔ انہوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی ہے، جو کامیابی کی راہ ہے۔

مسلمانوں کو چاہیے وہ کامیابی اور ناکامی کے حقیقی فلسفے سے آگاہی حاصل کریں۔

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*