obama-1

اوباما کے خالی ہاتھ

آج کی بات

امریکی صدر اوباما کے اٹھ سالہ دور صدارت کی مدت اختتام کو پہنچ رہا ہے ،اوباما انتظامیہ سیاسی اور عسکری دونوں محاذوں پر ناکام اور شسکت سے دوچار رہا، اس ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ وائٹ ہاؤس سے ایسی حالت میں رخصت ہو رہے ہیں کہ کسی بھی میدان میں ان کی ایک قابل ذکر کامیابی اور کارنامہ ایسا نہیں ہے کہ جس پر وہ فخر کرسکیں بلکہ وہ خالی ہاتھ جا رہے ہیں ۔

ملک کے اندر اوباما کی واضح شکست کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈیموکریٹس پارٹی کی نامزد امیدوار (ہلیری) سیاست کے میدان میں ایک گمنام اور غیر معروف شخص (ٹرمپ) کے مقابلے میں تاریخی شسکت اور ناکامی سے دوچار ہوئیں ، امریکیوں کی اقتصادی حالت رو بہ زوال ہے ، امتیازی اور نسلی اختلافات عروج پر پہنچ گئے ،امریکی شہریوں نے حملوں اور دھمکیوں کے خوف سے دیگر ممالک کے ساتھ آمد ورفت کا سلسلہ محدود کردیا ۔

اوباما نے امریکیوں کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں روزگار کے مواقع فراہم کریں گے، معاشی برتری کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کریں گے اور ماضی کے مقابلے میں صحت کی سہولیات فراہم کریں گے لیکن ان کے وعدے محض وعدے ہی ثابت ہوئے اور عملی طور پر انہوں نے کچھ نہیں کیا ۔

اقتصادی تعاون اور ترقی کی امریکی تنظیم نے رواں سال ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، 19 فیصد طلبہ تعلیم سے فراغت کے بعد بے روزگار رہتے ہیں انہیں ملازمت کے مواقع نہیں مل رہے جس میں کل ایک ملین اور 600 ہزار افراد بے روزگار ہیں ۔

اسی طرح اوبامہ نے بھی گزشتہ سال اعتراف کیا کہ وہ اپنے 8سالہ دور صدارت کی مدت میں ہتھیاروں کی ملکیت پر کنٹرول کرنے اور شہریوں اور پارکوں میں امریکی شہریوں کو غیر قانونی اسلحہ کی نمائش پر پابندی لگانے میں ناکام رہے ،کہا جاتا ہے کہ غیر قانونی ہتھیار لے جانے اور اس کو استعمال کرنے سے گزشتہ پانچ برس کے دوران تقریبا ایک ہزار امریکی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں ۔

نسلی امتیاز یعنی سفید اور سیاہ فام کے درمیان دشمنی اور تنازعات کی شدت کے باعث صدارتی الیکشن میں ڈیموکریٹس پارٹی کے امیدوار شسکت سے دوچار ہوگئے ۔

اوباما کے دور صدارت کی ایک اور ناکامی اور بڑا اسکینڈل یہ تھا کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے نے دنیا کے اہم رہنماؤں اور امریکی شہریوں کے تمام ٹیلی فون اور ایمیل کی جاسوسی کی ، جس کو امریکی عوام اپنی ذاتی زندگی اور رازداری کے معاملات میں مداخلت اور ایک ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہیں ۔

خارجہ پالیسی میں بھی اوباما مسلسل شسکت اور ناکامی سے دوچار رہے جس میں سرفہرست افغانستان کی طویل المدت جنگ اور شکست ہے اس جنگ پر امریکہ کے ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کی لاگت آئی اور امریکہ اور نیٹو کے 50 ہزار اہلکار ہلاک، زخمی ، مہلک زہنی امراض کا شکار اور معذور ہوئے ،اس کے علاوہ اوباما اپنے 8 سالہ دور صدارت  کے عرصے میں افغانستان میں ایک ایسی حکومت قائم کرنے کامیاب نہیں رہے کہ کم از کم کابل شہر میں امن قائم کرکے کابل شہریوں کا اعتماد حکومت پر بحال کریں ۔

بات یہاں تک پہنچی کہ دو ہفتے قبل اوباما نے سیکورٹی اور فوجی اداروں کے سامنے اس حقیقت کا برملا اعتراف کیا کہ وہ طالبان کو شکست دینے اور انہیں کمزور کرنے میں ناکام رہے ۔

اوباما نے وعدہ کیا تھا کہ عراق اور لیبیا میں ترقی اور استحکام لائیں گے لیکن لیبیا میں نسلی تنازعات اور جنگوں میں شدت آرہی ہے ، اقتصادی بنیادی ڈھانچے منہدم ہوگئے، انشتار اور نارکی پھیل گئی، اگر موجودہ صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو قوی امکان ہے کہ لیبیا کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا۔

عراق کو داعش کی آگ میں دھکیل دیا گیا، مذہبی اختلافات اور شیعہ و سنی تنازعات کی جڑیں مضبوط ہوگئیں اور یہ امکان ختم ہوا کہ عراقی عوام ایک بار پھر ایک متحد قوم کی حیثیت سے ایک نظام میں رہنے کے قابل ہوجائیں ۔

دوسری جانب شام میں خونریز جنگ بدسور جاری ہے جس کی بنیاد امریکہ نے رکھی اور اب اس میں روس اور دیگر ممالک نے بھی اس میں براہ راست مداخلت شروع کردی اور اس کے بعد شام سے متعلق جو بھی فیصلہ ہوگا اس میں روس کا کلیدی کردار ہوگا ۔

اسی طرح چین اور اس ضمن میں روس نے دینا کو یہ باور کرایا ہے کہ سیاسی اور عسکری میدان میں وہ امریکہ سے کئی قدم آگے جا رہے ہیں جبکہ چین تو اقتصادی میدان میں خود کو عالمی معیشت کی سپرپاور قرار دے رہا ہے ۔

اوباما کے ملکی اور بیرونی دھچکوں، رسوائی اور شکست کو دیکھتے ہوئے ہم برملا کہہ سکتے ہیں کہ  موصوف خالی ہاتھ وائٹ ہاؤس سے رخصت ہو رہے ہیں کہ ،ان کے ہاتھ میں کامیابی اور کارناموں کا کوئی قابل ذکر افتخار نہیں ہے بلکہ وہ ندامت اور شرمساری کی حالت میں رخصت ہو رہے ہیں ۔

 

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*