monogram_of_the_islamic_emirate_of_afghanistan

ماسکو میں سہ فریقی اجلاس کے حوالے امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا بیان

افغان مسئلہ کا حقیقی حل اس میں ہے کہ افغانستان میں زمینی حقائق  کو سمجھاجائے اور اس مسئلے کے حل کی راہ میں موجود تمام رکاوٹوں کو  دور کیا جائے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ اب علاقائی ممالک بھی اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں، کہ امارت اسلامیہ افغانستان کی ایک سیاسی اور فوجی قوت ہے۔ ماسکو میں سہ فریقی اجلاس میں بلیک لسٹ سے امارت اسلامیہ کے اعضاء کے ناموں ختم کرنے کے متعلق سفارش افغانستان میں  امن و استحکام لانے کی راہ میں ایک  مثبت قدم ہے۔ ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، مگر ملک میں حقیقی امن کے لیے افغانستان کے لاچار عوام کے بنیادی حقوق اعادہ ہونے چاہیے، تاکہ وہ بھی دنیا کے دیگرممالک کے باشندوں کی طرح خودمختار ملک کے حامل اور آزادانہ آمدورفت کرسکے۔

ملک کی خودمختاری اور یہاں اسلامی نطام کا قیام ہمارا ایجنڈا ہے۔امارت اسلامیہ افغانستان ایک حققیت ہے اور عوام میں اس کی جڑیں مضبوط ہیں۔ ملک کے تمام اقوام کے درمیان وحدت اور علاقائی سالمیت ہمارا مقصد ہے۔

اب بھی امارت اسلامیہ اپنے زیرکنٹرول علاقوں میں امن و استحکام کا سبب ہے۔ ہم عملی طور پر دیکھ رہے ہیں، کہ کابل بوسیدہ انظامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں کے بغیر مفتوحہ علاقوں میں چوری ہوتی ہے اور نہ ہی اغواء برائے تاوان۔ مسائل کے حل کے لیے عوام کو کرپشن سے پاک شرعی عدالتوں کا شفاف نظام متعارف کروایا ہے۔ اس طرح عوام کے بیشتر مسائل کو پرامن طریقے سے حل کیے ہیں۔

محمد سہیل شاہین تر جمان سیاسی دفتر امارت اسلامیہ

28 / ربیع الاول 1438 ھ  بمطابق  28 / دسمبر 2016 ء

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*