monogram_of_the_islamic_emirate_of_afghanistan

روزنامہ نیویارک ٹائم کی رپورٹ کے متعلق ترجمان کا ردعمل

نیویارک ٹائم نامی مغربی روزنامے نے نارویژن سفارتکار الف ارنی رامسلین (Alf Arne Ramslien )کے حوالے سے من گھڑت رپورٹ میں کہا ہے کہ گویا 2009 ء میں  مرحوم امیرالمؤمنین ملا محمد عمر  مجاہد رحمہ اللہ سے مملکت پاکستان میں پہلے دو مرتبہ فون پر گفتگو !!؟ اس کے بعد ان سے ملاقات ہوئی  اور اسی مقدمے کے تحت کافی بےبنیاد اور من گھڑت باتیں نقل کی ہیں۔

ہم اس رپورٹ کی ابتداء سے انتہا تک تردید کرتے ہیں۔ مرحوم امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ گزشتہ 25 برسوں سے مملکت پاکستان کبھی بھی تشریف  لے گئے تھے اور نہ ہی امریکی جارحیت کے بعد ان سے کسی نے فون پر بات چیت کی ہے اور نہ ہی ان کا یہ معمول تھا کہ سفارتکاروں سے ملاقاتیں کریں۔ باالخصوص جارحیت کے زمانے میں وہ بھی بیرونی سفارتکار کیساتھ۔ ایسے حالت میں کہ ان پر لاکھوں ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا۔

ممکن اس سفارتکار نے اپنی شہرت کی خاطر ایسی باتیں کی ہو اور یا کسی نے جعلی طور پر خود کو امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ ظاہر کیا ہو۔ مذکورہ رپورٹ من گھڑت اور بےبنیاد ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ ایسی بےبنیاد، من گھڑت اور جھوٹے رپورٹیں شائع نہ کریں، کیونکہ ایسے افواہات سے مذکورہ ابلاغی ذرائع اپنے حیثیت کو نقصان پہنچانے اور کمزور کرنے کے علاوہ اور کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکےگی۔

قاری محمد یوسف احمدی ترجمان امارت اسلامیہ

28/ ربیع الاول 1438 ھ بمطابق 28 / دسمبر 2016 ء

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*