Media

میڈیا غیر جانبدار رہے

آج کی بات

تمام پرائیوٹ ذرائع ابلاغ غیر جانبداری کے دعوی کر رہے ہیں انہیں غیر جانبداری کے دعووں کو سچ ثابت کرنا ہوگا اور اپنی آزاد حیثِت کو برقرار رکھنا چائیے ، قوم اور دنیا کے سامنے حقائق پیش کرنے اور مسائل اجاگر کرنے کے معیار پر پورا اترنے کی کوشش کی جائے ، استعماری طاقتوں اور ان کے کٹھ پتلیوں کے آلہ کار کا کردار ادا نہ کریں ، بدقسمتی سے بہت سارے ذرائع ابلاغ غیر جانبداری کے دعوی تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ استعماری قوتوں کی خدمت میں مصروف عمل ہیں ۔

عوام اس میڈیا پر اعمتاد نہ کریں جو استعماری قوتوں نے اپنے مقاصد کے لئے ایجاد کیا ہے اور غیر ملکیوں کی طرف سے اس کو فنڈز فراہم کیا جا رہا ہے ، بدقسمتی سے وطن عزیز میں ذرائع ابلاغ کے میدان میں اکثر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا استعماری قوتوں کے وسائل اور ان کی طاقت کے بل بوتے پر قائم ہوئے ہیں ، اغیار کے پیسوں سے چلنے والے ذرائع ابلاغ کے پروگراموں کی منصوبہ بندی بھی وہی لوگ کر رہے ہیں اور ان کے مفادات کا دفاع اور تحفظ کیا جاتا ہے ۔

آزادی ریڈیو اکثر وبیشتر قابض استعماری قوتوں کی فرمائش پر امارت اسلامیہ کے لئے من گھڑت، غیر مستند اور بے بنیاد خبریں ، انٹرویوز اور تجزیے پیش کرتا ہے، اس ریڈیو کی خبروں اور رپورٹوں پر اس وقت تک اعتماد نہ کیا جائے جب تک امارت اسلامیہ کے ترجمان کی جانب سے اس کی تصدیق یا نہ تردید سامنے نہ آئے ۔

مذکورہ ریڈیو نے اپنے پروپیگنڈے کے سلسلے میں گزشتہ روز ایک رپورٹ شائع کی کہ امارت اسلامیہ کے اعلی رہنماؤں کے مابین مالیاتی امور پر اختلافات پیدا ہوگئے ہیں ،امارت اسلامیہ کے ترجمان قاری یوسف احمدی کا اس بارے میں کہنا ہے: ہم اس طرح پروپیگنڈے اور من گھڑت رپورٹ کی سختی سے تردید کرتے ہیں ،یہ من گھڑت رپورٹ غیر ملکی استعماری قوتوں اور انٹیلی جنس اداروں  کے پروپیگنڈہ مہم کا ایک حصہ ہے لیکن اللہ کا کرم ہے کہ امارت اسلامیہ کی صفوں میں کوئی ایسے اختلافات ہیں اور نہ ہی مالیاتی امور کے مسائل ہیں ۔

امارت اسلامیہ کے زیرانتظام کے تمام ادارے منظم اور متحد ہیں ، رہنماؤں اور کارکنوں کی حیثیت معلوم ہے، سب اپنے قائد امیرالمومنین  شیخ الحدیث مولوی ھبۃ اللہ اخوندزادہ صاحب کی اطاعت کرتے ہیں، اس طرح مالی معاملات کے بارے میں بہت حساس اور محتاط ہیں ،بیت المال کو جمع کرنے اور رقم کو خرچ کرنے کے لئے منظم ادارہ موجود ہے جس میں غبن کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی اس حوالے سے اختلافات ہیں یہ محض دشمن کا پروپگینڈہ ہے ۔

آزادی ریڈیو کے ذمہ داران امارت اسلامیہ کے ترجمان سے رابطہ کی کوشش کرتے ہیں اورنہ ہی ان کی خبر لیتے ہیں بلکہ وہ دشمن، ،انٹیلی جنس یا نامعلوم ذرائع کے حوالے سے پروپیگنڈہ کرتے ہیں ،وہ یکطرفہ اور بے بنیاد خبروں کی اشاعت سے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں ، اپنی جانبداری کو ثابت کرنے کے علاوہ وہ امارت اسلامیہ کی حیثِت ، وقار، اتحاد اور ہم آہنگی کو کوئی نقصان نہیں پہچا سکتا ۔

میڈیا غیر جانبداری کا معیار برقرار رکھے ،اگر غیر جانبداری کا مظاہرہ نہ کرے تو نہ صرف کہ اس کی اپنی حیثیت کو دھچکہ لگے گا بلکہ اپنے اس شعبہ اور اصول کے ساتھ بڑی خیانت بھی ہے ۔

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*