img-20161223-wa0021

طالبان اور ملک کی تعمیر نو کی کوششیں

آج کی بات

طویل عرصے سے میڈیا اور امارت اسلامیہ کے رسمی نشریاتی شعبوں کی تصویری و غیرتصویری رپورٹیں منظر عام پر آرہی ہیں اور ملک بھر میں لوگ انہیں پڑھتے رہتے ہیں ،کچھ علاقوں سے ویڈیو فوٹیج پر مبنی رپورٹیں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں جن میں متعلقہ علاقوں کے ذمہ دار مجاہدین ہم وطنوں سے ملکر دستیاب وسائل کے تناسب سے چھوٹے  پلوں ، چند کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر اور صحت کے مراکز قائم کرتے ہیں اور شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے علاوہ ملک کے کئی علاقوں سے نئے اسکولوں میں شاندار تعلیمی تقریبات اور کانفرنسوں کے انعقاد کی ویڈیو فوٹیج اور رپورٹیں منظر عام پر آرہی ہیں جن میں نئے تعمیرشدہ اسکولوں میں مجاہدین دیکھائے جاتے ہیں ۔

آج بھی صوبہ ہلمند میں ایک اہم پل کو تعمیر کرنے کی ویڈیو فوٹیج پر مبنی رپورٹ شائع کردی جس میں ضلع نادعلی کے علاقے لوی ماندہ میں مجاہدین نے اس پل کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کردیا ۔

توقع ہے کہ اس پل اور متعلقہ سڑکوں کو 2 ماہ میں مکمل کیا جائے گا ، اس پل کی تعمیر سے شہریوں کی مشکلات میں کمی اور آمد ورفت میں آسانی پیدا ہوگی ۔

اسی طرح قندوز، بغلان، خوست، پکتیا، غزنی، نورستان اور دیگر علاقوں میں بھی مجاہدین وقتا فوقتا ترقیاتی منصبوں پر کام شروع کرتے ہیں جن کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں ۔

مجاہدین کوشش کرتے ہیں کہ ملک کی تعمیر نو اور ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ نوجوان نسل کو علم کے زیور سے آراستہ کرنے  اور انہیں مادی اور روحانی لحاظ سے جدید خطوط پر استوار کرنے کے قابل بنائیں تاکہ اپنے بچوں کو مدارس اور اسکولوں میں بھیجنے اور جہالت کے اندھیروں سے انہیں بچانے کے لئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں ۔

مجاہدین نے ملک کے کئی علاقوں میں سینکڑوں اسکولوں کی مرمت یا از سرنو تعمیر کی ہے ،کئی علاقوں میں کچھ چھوٹے تعمیراتی منصوبوں پر کام شروع کیا ہے اور اس کے علاوہ ایسی تنظیموں اور خیراتی اداروں کو سیکورٹی فراہم کرنے اور ان کے ساتھ تعاون کرنے کی پیشکش کی ہے جو ملک کی تعمیر نو میں عوام کی مدد کرتے ہیں ۔

یہ حقیقت ہے کہ مجاہدین کی ان معمولی خدمات سے ملک کے تمام مسائل حل نہیں ہو سکتے ہیں لیکن حتی الوسع مجاہدین کو جو وسائل اور مواقع دستیاب ہیں ان سے وہ بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ جارحیت پسندوں اور ان کے کٹھ پتلیوں کے جنگی اور ڈرون طیارے بھی دن رات ان کے اوپر پرواز کرتے ہیں اور ہر جگہ انہیں نشانہ بناتے ہیں ، ان کٹھن حالات میں مجاہدین کی جانب سے ملکی ترقی و تعمیر نو کے اس طرح اقدامات حوصلہ افزاء اور قابل ستائش ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مجاہدین اپنے ہم وطنوں کے ساتھ کتنی محبت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں زندگی کی تمام سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

مجاہدین کبھی بھی سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے اس طرح اقدامات نہیں اٹھاتے ہیں بلکہ وہ جو کرتے ہیں وہ دیانت اور ایمانداری سے کرتے ہیں ۔

اگر اس تناسب سے دیکھا جائے کہ حملہ آروں اور ان کے حواریوں کی جانب سے گزشتہ چودہ سال کے دوران کتنے پروپیگنڈے کئے گئے کہ وہ افغانستان میں تعمیر نو کے لئے پرعزم ہیں اور کتنے وسائل اس میں بدعنوانی اور جنگ پر خرچ کئے اگر اس کا موازنہ کیا جائے تو ان وسائل سے ایک فیصد بھی ملک کی تعمیر پر خرچ نہیں کیا ہے بلکہ بر عکس ایک سال میں افغانوں سے 3 ارب ڈالر رشوت میں وصول کیا جاتا ہے ۔

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*