Emarate_Flag

کابل بوسیدہ انتظامیہ کا خوف و ہراس

امارت اسلامیہ کے اقدامات کے بارے میں کابل انتظامیہ شدید خوف وہراس سے روبرو ہے۔ کابل انتظامیہ سے تمام وہ مواد مجاہدین نے حاصل کرلیے،جنہیں ماضی میں اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر امارت اسلامیہ کے خلاف استعمال کرتےرہے۔ کبھی کہتے کہ مجاہدین عام المنعفہ منصوبوں کو نہیں چھوڑتے، پلوں کو تباہ کرتے ہیں۔ کبھی الزام لگاتے کہ اسکولوں کو نذرآتش کرتے ہیں، ترقی اور تعلیم مخالف ہیں وغیرہ۔ اس کا مقصد یہ تھاکہ امارت اسلامیہ کے جہادی جدوجہد کو زیر سوال لائیں۔ مگر حالیہ دنوں میں قومی منصوبوں کے حمایت کے متعلق امارت اسلامیہ کے اعلامیہ نے ان سے اس پروپیگنڈے کی دستاویز بھی چھین لیے۔ انہیں شدید خوف و ہراس میں مبتلا کیا اور امارت اسلامیہ کے اس اقدام کے استقبال کے بجائے مخالفت شروع کی۔اس طرح قوم مخالف  چہرہ عوام اور دنیا کو دیکھادی۔ جب امسال فوجی مد میں مجاہدین نے کابل انتظامیہ کے پائیدار  سنگروں (مورچوں ) کو روندھ ڈالے، تو کابل انتظامیہ نے الزام لگایا، کہ مجاہدین کےہمراہ بیرونی تربیت یافتہ فوجی لڑ رہے ہیں، لیکن امارت اسلامیہ نے اعلان کیا کہ کابل انتظامیہ گرفتار یا شہید ہونے والے ایک بیرونی مجاہد کو میڈیا کے سامنے پیش کریں۔ فوجی دستہ اور دیگر بٹالین اس قوم کے فرزند ہیں اور امارت اسلامیہ کے فوجی مراکز میں تربیت حاصل کرچکے ہیں۔ امارت اسلامیہ کی تشکیل میں بیرونی مجاہدین ہیں اور نہ ہی کسی کو  اجازت دیتی ہے کہ امارت اسلامیہ کی تشکیل کے دائرے بیرون سرگرمی دکھادیں۔

سیاست کے میدان میں بھی کابل انتظامیہ امارت اسلامیہ پر الزام لگاتی ، کہ دیگر ممالک میں تخریبی کاروائیوں  کا پروگرام رکھتے ہیں، مگر امارت اسلامیہ نے فعال سفارت کاری کے ذریعے ان ممالک کو واضح کردی، کہ ہم ہمسائیہ اور عالمی برادری کیساتھ پرامن زندگی کے خواہاں ہیں۔ہم خودمختار اور قبضے کے بغیر افغانستان کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، کہ ہماری سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال کریں اور نہ ہی اپنے معاملات میں کسی کے مداخلت کو تسلیم کرتے ہیں۔

اب کابل انتظامیہ کے پاس اور کچھ نہیں ہے ۔ درجنوں میڈیا چینلوں کو فنڈز فراہم کررہاہے، کہ ان کے مفاد میں پروپیگنڈہ کریں۔ فیس بک کے سینکڑوں جعلی اکاؤنٹ چلا رہے ہیں،  تاکہ یہ ظاہر کریں، کہ عوام ان کیساتھ اور ان کا حمایت کررہا ہے، مگر یہ عوام کی آواز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور دیگر استعماری ممالک میں حکام کی توجہ مبذول کروانے کے لیے لاکھوں ڈالرز لابنگ کی صورت میں خرچ کررہے ہیں۔ یہ راز بھی حالیہ دنوں میں افشا ہوا۔ مگر عملی میدان میں ہمیشہ عالمی سطح پر کرپٹ حکومت کی سرفہرست میں  رہی ہے۔ حالیہ سروے کی رو سے  کابل انتظامیہ کے دفاتر میں ایک سال میں  تین ہزار ملین ڈالر یا تقریبا دو سو ہزار ملین افغانی رشوت لی جاتی ہے۔ کرپٹ اہلکار صبح آفس خالی بٹوے لاتے ہیں اور شام کے وقت واپسی کے دوران بھرےبٹوے  گھر لے جاتے ہیں۔ ان کی بقاء جارحیت کے دوام سے وابستہ ہے۔

امارت اسلامیہ اور حریت پسند تعلیم یافتہ نوجوان افغان نسل سمیت تمام عوام اپنے مفاد کو جارحیت کے خاتمے، خودمختاری اور اسلامی نظام کے زیرسایہ ترقی یافتہ افغانستان میں دیکھ رہا ہے، مگر کابل انتظامیہ انارشی، جارحیت  اورجنگ جاری رکھنے میں ڈھونڈ رہی ہے۔ عوام کو سمجھاچاہیے کہ ان کا فائدہ علیحدہ ہے۔ جتنا عوام اور امارت اسلامیہ مشترکات پر اکھٹے ہیں، اسی اندازے میں عوام مخالف عناصر  جو ہر شکل میں ہوں، وہ کنارہ کش ہورہے ہیں۔

سب ایک اسلامی، خودمختار، پرامن، پرسکون اور خوشحال  افغانستان کی جانب۔

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*