F-340

مولوی محمد ولی شہید کی زندگی پر ایک نظر

عبدالرؤف حکمت

اسلامی نظام کی بنیادوں پر قائم ایک نظام کی ذمہ داریوں میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ کی مخلوق کو خیر کی جانب بلائے اور شر سے بچائے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے مسلمانوں کے درمیان ایک ایسی جماعت کا وجود ضروری قرار دیا ہے، جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری سنبھالے۔ اللہ تعالی کا پاک ارشاد ہے:

’’ ولتکن منکم امة یدعون الی الخیر و یأمرون بالمعروف و ینهون عن المنکر و اولئک هم المفلحون.‘‘ (آل عمران)

’’اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو، جو خیر کی طرف بلائے اور نیکیوں کا حکم کرے اور برائی سے منع کریں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘

قرآن کریم کے اسی حکم کی بنیاد پر جب امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی قیادت میں امارت اسلامیہ کے قیام کا اعلان ہوا تو قندھار کی فتح کے کچھ عرصہ بعد امیرالمؤمنین رحمہ اللہ کے خصوصی فرمان پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا۔ قندھار کے ایک پرہیز گار اور بااستعداد عالم اور مجاہد مولوی محمد ولی صاحب اس کے سربراہ بنا دیے گئے۔ جب کابل فتح ہوا تو اسی نام سے باقاعدہ وزارت تشکیل دی  گئی۔ امریکی جارحیت کے دور تک انہوں نے یہ خدمت سنبھالے رکھی۔ ذیل کی تحریر میں مولوی محمد ولی کی زندگی پر ایک نظر ڈالی گئی ہے:

زندگی کے ابتدائی مراحل:

مولوی محمد ولی حنفی، ملا محمد عوض کے صاحبزادے اور ملا عبدالواحد کے پوتے تھے۔ قوم کے پشتون علی زئی تھے۔ ہجری شمسی سال 1346 میں قندھار کے سیاچوی نامی علاقے میں پیدا ہوئے۔ یاد رہے سیاچوی تب پنجوائی کا مضافاتی علاقہ سمجھا جاتا تھا، مگر نئی انتظامی تقسیم کی بنیاد پر اب اسے ضلع ژڑی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ مولوی محمد ولی صاحب کا خاندان ہمیشہ سے علم و دیانت کا حامل خاندان رہا ہے۔ والد اور بھائیوں نے بھی دینی علم حاصل کر رکھا تھا۔ انہوں نے بچپن میں ہی دینی علم حاصل کر لیا تھا۔

تعلیمی سلسلہ:

مولوی محمد ولی صاحب کے والد ایک علم دوست شخص تھے۔ انہوں نے اپنے بچوں کو ہر کام سے مستثنی کر کے علم کے حصول کے لیے فارغ رکھا۔ ان کے ایک بھائی کا کہنا ہے کہ ایک بار والد صاحب نے ہم سے کہا: ’’اگر میری جان اور جسم پر آگ بھی جل رہی ہو تو بھی اپنا تعلیمی سلسلہ ترک نہیں کرنا۔  مولوی محمد ولی صاحب اپنے بھائیوں میں خاص قابلیت کے مالک تھے۔ والد کی ان پر خاص نظر تھی اور ان کا خاص خیال رکھتے تھے کہ اچھے عالم بن جائیں۔

مولوی محمد ولی صاحب کے بڑے بھائی قاری عبدالباری صاحب پاکستان کے مشہور جامعہ ’دارالعلوم حقانیہ‘ میں حصول علم میں مصروف تھے ۔ وہ انقلاب ثور کے بعد اپنے چھوٹے بھائی 11 سالہ عبدالولی کو اپنے ساتھ لے گئے۔ وہاں اس معروف علمی مرکز میں دینی علوم کے حصول کا سلسلہ جاری رکھا۔ مولوی محمد ولی صاحب نے دارالعلوم حقانیہ میں دو سال گزارے۔ اس کے بعد بلوچستان گئے اور وہاں  مختلف مشہور مدارس اور مشہور اساتذہ سے استفادہ کیا۔

مولوی عبدالغنی صاحب نے زمانہ طالب علمی کا زیادہ وقت مولوی محمد ولی صاحب کے ساتھ گزارا ہے، وہ کہتے ہیں کہ  مولوی محمد ولی صاحب ہر لحاظ سے ایک مخلص، تقوی دار اور علم سے محبت رکھنے والے انسان تھے۔ شریعت مخالفت کوئی کام بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔

جب کمیونسٹوں کے خلاف جہاد کامیابی سے ہم کنار ہورہا تھا، مولوی محمد ولی صاحب ایک بار پھر دارالعلوم حقانیہ گئے۔ وہاں دو سالوں میں درسِ نظامی کی آخری دو سالہ تعلیم مکمل کی۔ وقت کے عظیم عالمِ دین شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد فرید صاحب  رحمہ اللہ سے حدیث نبوی کی اجازت حاصل کی۔

جہادی زندگی:

روسی جارحیت پسندوں کے خلاف جہاد کے دور میں مولوی محمد ولی صاحب نوجوان تھے۔ سال کے اکثر حصہ دینی مدارس میں پڑھتے رہے۔ البتہ سالانہ تعطیلات میں قندھار جاتے اور وہاں روس کے خلاف جہاد میں حصہ لیتے۔ ان کے بڑے بھائی قاری عبدالباری صاحب کہتے ہیں کہ مولوی محمد ولی صاحب نے روس مخالف جہاد کے دوران زیادہ عرصہ قندہار کے  معروف اور مشہور مجاہد شہید لالا ملنگ کے محاذ پر گزارا۔ اکثر یہ محاذ ارغنداب، پنجوائی اور قندھار شہر کے مضافات میں کارروائیاں کرتا تھا۔ یہ گروپ قندھار کے ان محاذوں میں سے تھا، جنہوں نے جہاد کےدوران کلیدی کردار ادا کیا تھا اور بہت سے کارناموں کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔ کمیونسٹ دور حکومت کے آخری سال مولوی محمد ولی صاحب شہید جہاد کے لیے زابل بھی گئے، جہاں جبار ملیشیا کے تحت کمیونسٹوں کے خلاف شدید جنگیں لڑیں۔ مولوی صاحب اس جنگ میں شدید زخمی بھی ہوئے۔ جہاد کی کامیابی کے بعد مولوی محمد ولی صاحب پنجوائی میں دینی علوم کی تدریس کے لیے کمربستہ ہوگئے۔ اور تحریک اسلامی طالبان کے ظہور تک تدریس ہی میں مصروف رہے۔

امارت اسلامیہ میں شمولیت اور خدمت:

ان کے بھتیجے حافظ محمد صاحب کہتے ہیں: جب تحریک کے آغاز میں ایک مرتبہ ہم مولوی محمد ولی صاحب کے ساتھ مدرسہ میں  پڑھ رہے تھے، ہم نے فائرنگ کی آواز سنی۔ لوگوں نے کہا کہ طالبان (طالب علموں) نے ایک جنگجو کمانڈر اور  ڈاکو ’صالح‘ پر حملہ کر دیا ہے۔ مولوی محمد ولی صاحب نے اسی دن تدریس چھوڑ دی اور اپنے طلبا کو لے کر جنگ کے لیے نکل پڑے۔ یہ طالبان تحریک کی پہلی لڑائی تھی اور مولوی محمد ولی صاحب یہیں سے تحریک کے ساتھ مل گئے۔

قندھار کی فتح کے کچھ عرصہ بعد امیرالمؤمنین ملا عمر مجاہد رحمہ اللہ کے فرمان کے مطابق امر بالمعروف کا ادارہ بنایا گیا اور مولوی محمد ولی صاحب اس کے سربراہ کی حیثیت سے متعین کیے گئے۔ انہوں نے اس ادارے میں اپنی ذمہ داری بہت اخلاص اور خوبی سے نبھائی۔ امارت اسلامیہ کی ایک سب سے بڑی خصوصیت یعنی اسلامی نظام کا نفاذ، اس کے اکثر امور اسی ادارے کے ذریعے انجام پائے۔ جب کابل فتح ہوا، افغانستان کی تاریخ میں پہلی بار امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے نام سے باقاعدہ وزارت بنائی گئی۔ اس وزارت کے تمام صوبوں میں دفاتر قائم تھے۔ اس کے اہم کاموں میں دینی شعائر کا احیا، نماز، روزہ، زکوۃ اور تمام اعمال حسنہ پر لوگوں کو عمل کروانا، ناجائز کاموں، بدعات اور غیرشرعی امور کا خاتمہ، موسیقی، فحاشی اور بے دینی کے اسباب کا خاتمہ، شرعی حجاب اور پردہ کی جانب خواتین کو مائل کرنا، مسلمانوں کی سیرت اور صورت شرعی طریقے پر بنوانا، منشیات، شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کے استعمال کا خاتمہ اور اس طرح کے دیگر شرعی امور ادارے کی اہم ذمہ داریوں میں شامل تھے۔

مولوی محمد ولی صاحب اس وزارت کے امور میں بہت دلچسپی ، پوری توجہ اور دیانت داری سے کام کرتے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ایک مرتبہ ایک شخص کو کسی ناجائز امر کی وجہ سے قید کرنے کا حکم دیا تھا۔ جسے آپ کے بڑے بھائی نے بلا اجازت رہا کر دیا۔ آپ کو پتا چلا تو حکم دیا کہ ہمارے بڑے بھائی کو قید کر دیا جائے۔ ان کا بھائی قید کے خوف سے شہر چھوڑ کرچلے گئے۔

امریکا کے خلاف جہاد اور شہادت:

جب امریکی جارحیت کے بعد امارت اسلامیہ کے مجاہدین افغانستان کے بڑے شہروں سے نکل گئے۔ مولوی محمد ولی صاحب نے بھی روپوشی اختیار کر لی۔ کچھ عرصہ خفیہ رہنے کے بعد ایک بار پھر جہادی امور سنبھالنے کے لیے آگے آئے اور عملی محاذ کا رخ کیا۔  حافظ محمد صاحب کہتے ہیں: مولوی صاحب کو جہاد سے بے انتہا محبت تھی۔ جب وہ  2006 میں پہلی بار محاذ پر جا رہے تھے تو بہت خوش تھے اور کہہ رہے تھے کہ بیت اللہ شریف جانے کو بھی اتنی خوشی سے جانے کو دل کر رہا جتنی خوشی (قندھار کے جہادی علاقے)پاشمول کے محاذ پر جانے سے ہو رہی ہے۔  راہِ جہاد میں شہادت ان کی سب سے بڑی خواہش تھی۔

شہادت سے کچھ عرصہ قبل ضلع ژڑی کے علاقے سیاچوی میں اپنے بھتیجوں کے ہاں گئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں حالات خراب ہیں۔ امریکی فوجی حملے کرتے ہیں۔ ہمارا مشورہ یہی ہے کہ آپ اپنے گھر چلے جائیں۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ مَیں جہاد اور شہادت کے لیے گھر سے نکلا ہوں اور دل چاہتاہے کہ اللہ کی راہ میں میرا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ عجیب بات یہ تھی کہ کچھ دن بعد اللہ تعالی نے مولوی محمد ولی صاحب کی یہ خواہش پوری کر دی۔ ضلع ژڑی کے علاقے پاشمول میں راز محمد خان نامی گاؤں میں مجاہدین کے مرکز پر امریکی ہیلی کاپٹروں نے بمباری کر دی، جس کے نتیجے میں 25 دیگر مجاہدین کے ساتھ ساتھ 24 ذی قعدہ 1427ھ کو مولوی محمد ولی صاحب  بھی شہید ہو گئے۔ اس بمباری میں بہت سے مجاہدین کے جسد صحیح سالم تھے۔ جب  کہ مولوی محمد ولی صاحب کے جسم کو بم آ کر لگا تھا، اس لیے ان کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا۔ اس طرح ان کی شہادت کی خواہش پوری ہوگئی۔

شخصیت:

مولوی محمد ولی صاحب اپنے ساتھیوں کے درمیان بہت تقوی دار اور دیانت دار مشہور تھے۔ ان کے ساتھی مولوی حمد اللہ مطیع صاحب کہتے ہیں: مولوی محمد ولی صاحب ایک پرہیزگار اور مخلص آدمی تھے۔ انہیں فقر کی زندگی پسند تھی۔ جہاد اور اسلامی نظام کی راہ میں بہت اخلاص سے خدمات انجام دیں اور اسی راہ میں شہادت کے مقام پر فائز ہوگئے۔

ان کے بھائی قاری عبدالباری صاحب کہتے ہیں: مولوی صاحب بچپن اور نوجوانی سے ہی تقوی اور دیانت کا نمونہ تھے۔ یہاں تک کہ جوانی میں بھی ہم نے انہیں عیش پرستی، بے جا ہنسی، مذاق اور وقت ضایع کرتے نہ دیکھا۔ ان کا تقوی طبعی تھا۔ ذکر و اذکار بہت زیادہ کرتے تھے اور تصوف کے نقشبندیہ سلسلے کے مرید تھے۔ وزارت کے دور میں امارت اسلامیہ کی جانب سے انہیں جو تنخواہ دی جاتی تھی، وہ بھی سب اپنے گھر میں خرچ نہیں کرتے تھے، بلکہ آدھی واپس کر دیتے تھے اور گھر کے اخراجات ذاتی ذرائع سے پورے کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ مَیں نے اپنا سارا وقت امارت کے کام کو نہیں دیا، بلکہ آدھا وقت دیا ہے۔ اس لیے سارے مصارف امارت کی تنخواہ سے بھی نہیں پورا کرنا چاہتا۔

حافظ صاحب کہتے ہیں کہ مولوی صاحب باوجود اس کے کہ وفاقی وزیر تھے، مگر زندگی میں آسائش کے لحاظ سے کوئی تغیر نہ تھا۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ وزارت سے پہلے میرے پاس 13 ہزار روپے تھے، مگر جب امارت کا سقوط ہوا اور مَیں ہجرت کرنے لگا تھا تو میرے پاس 7 ہزار روپے تھے۔ وہ اس پر شکر ادا کرتے تھے کہ بیت المال کے پیسوں سے ذاتی سرمایہ نہیں بنایا۔

قاری عبدالباری صاحب کہتے ہیں: مولوی صاحب میرے بھائی اور مجھ سے چھوٹے تھے۔ مَیں امارت اسلامیہ کے دور میں صوبہ خوست میں کام کر رہا تھا۔ مَیں جب چھٹیوں میں قندھار آتا تو شکار کے لیے بھی جاتا۔ ایک بار مولوی محمد ولی صاحب نے مجھ سے کہا کہ جب شکار کے لیے جاؤ تو امارت کا تیل خرچ نہ کرو اور اگر گاڑی خراب ہو جائے تو  اپنے جیب سے ٹھیک کرواؤ۔ کیوں کہ گاڑی تمہیں سرکاری امور کے لیے دی گئی ہے، شکار کے لیے نہیں دی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی محمد ولی صاحب بیت المال کے مصارف میں انتہائی محتاط تھے اور اس شعبے میں کسی رشتہ داری کا لحاظ نہ کرتے تھے۔

ان کے قریبی ساتھی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عام ڈرائیور کی گاڑی کی ٹکر سے مولوی صاحب زخمی ہوگئے۔ جب گاڑی کے مالک کو پتا چلا کہ گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہو کر بے ہوش ہونے والا کوئی اور نہیں، حکومت کا وفاقی وزیر ہے تو وہ بہت گھبرا گیا۔ امارت کی پولیس کی جانب سے ڈرائیور کو پکڑکر لاک اپ میں بند کر دیا گیا ۔ جب مولوی صاحب کو ہسپتال میں ہوش آیا تو سب سے پہلے انہوں نے یہی کہا کہ اس ڈرائیور کو اگر پکڑ رکھا ہے تو اسے آزاد کردو، مَیں نے اسے معاف کر دیا ہے۔

یہ بات اس لیے زیادہ غور کرنے کی ہے کہ اب امارت کے سقوط کے بعد ہم کرزئی اور اشرف غنی  کی حکومتوں میں آئے روز دیکھتے ہیں کہ روزانہ اعلی حکام کی جانب سے عام ڈرائیوروں، ٹریفک یا پولیس اہل کاروں کو اس لیے مارا پیٹا جاتا ہے، حتی کہ زخمی کیا جاتا ہے، بلکہ جان سے ہی مار دیا جاتا ہے۔ کیوں اس نے وزیر یا رکن پارلیمنٹ کے لیے راستہ خالی نہیں کیا۔ اس طرح متکبر حکام مظلوم اورے بے سہارا لوگوں کو اپنی فرعونیت دکھاتے ہیں،مگر امارت اسلامیہ کے حکمرانوں کی مثال ایسی تھی، جیسے مولوی صاحب رحمہ اللہ تھے۔ غلطی بھی دوسرے  کی ہو اور پھر بھی معاف کر دیتے ہیں اور دعوی بھی نہیں جتلاتے۔

اللہ تعالی مولوی صاحب رحمہ اللہ پر رحم فرمائے اور ان کی برکات ان کے ورثا کو عطافرمائے۔ آمین یا رب العالمین

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*