shariat_magazine_mic

ہلمند کےبارے امارت اسلامیہ کے ترجمان قاری یوسف احمدی کی گفتگو

نوے فیصد ہلمند مجاہدین کے پاس ہے

ہلمند بارے امارت اسلامیہ کے ترجمان قاری یوسف احمدی کی گفتگو

قاری حبیب

عمری آپریشن کے سلسلے میں رواں سال افغانستان کے مختلف علاقوں میں مجاہدین نے قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس حوالے سے خبروں میں زیادہ رہنے والے ہلمند کو مجاہدین نے تقریبا دشمن کے سے پاک کر دیا ہے۔

اب ہلمند میں حالات کیسے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ یہ اور اسی طرح کے دیگر سوالات اور مسائل کے حوالے سے ہم نے امارت اسلامیہ کے ترجمان جناب قاری محمد یوسف احمدی صاحب گفتگو کی ہے، جو آپ کے نذر کی جا رہی ہے ۔

سوال:        آپ صوبہ ہلمند کے موجودہ حالات کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے؟

جواب:        صوبہ ہلمند میں جہادی حالات سب سے زیادہ اچھے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صوبے کے چند ایک انتظامی مراکز کے علاوہ تمام علاقے فتح ہو چکے ہیں ۔ آپ نے سنا ہو گا کہ دشمن کے مقامی انتظام کاروں نے اعلانیہ اعتراف کیا ہے کہ ہلمند کے تقریبا 60 مربع کلومیٹر رقبے میں سے 80فیصد سے زیادہ پر مجاہدین کا قبضہ ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مجاہدین کا مفتوحہ علاقہ 90فیصد ہے۔ اشرف غنی انتظامیہ کے افراد صرف مرکز لشکر گاہ ، گریشک ، ناد علی، ناوی، مارجہ اور گرمسیر کے اضلاع کے مراکز میں محصور ہیں۔ ہلمند کے نوے فیصد میں کوئی بھی ایسا علاقہ نہیں، جہاں دشمن کا قبضہ ہو، بلکہ خدا کے فضل سے اب دشمن صرف ان ہی پانچ علاقوں پر بھی مکمل کنٹرول نہیں رکھتا۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہلمند میں مجاہدین ماضی کے کی نسبت زیادہ رقبے پر حاکم ہیں اور عملی کارکردگی اور حوصلے کے حوالے سے مضبوط اور فتوحات کے لیے تیار ہیں ۔ ہلمند میں ایسی تبدیلی آئی ہے، جس نے پورے افغانستان میں آزادی کی امیدیں مضبوط کر دی ہیں۔ مظلوم عوام کے دلوں میں خوشی کی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں ۔

سوال:        گزشتہ سال عزم آپریشن کے سلسلے میں ہلمند کے اکثر شمالی علاقے فتح ہو گئے تھے۔ نوزاد، موسی قلعہ، سنگین اور اسی طرح کجکی و گریشک کے اکثر علاقے فتح ہوئے تھے۔  رواں سال عمری آپریشن میں ہلمند میں کون سی نئی فتوحات سامنے آئی ہیں؟

جواب:        یہ تفصیل طلب سوال ہے۔ گزشتہ سال ہلمند کے اکثر شمالی علاقوں سے  دشمن بھاگ گیا تھا۔ اور یہ علاقے اسلامی نظام کے زیر سایہ آ گئے تھے، مگر ہلمند کے مرکزی اور جنوبی علاقے اُس وقت بھی دشمن کے قبضے میں تھے ۔ درحقیقت یہ وہ علاقے تھے، جہاں 2009 میں امریکی اور برطانوی فوج نے ’’پنجۂ شیر‘‘ کے نام سے آپریشن کیا اور ان علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ خنجر آپریشن نامی لڑائی کو امریکی میڈیا نے بہت کوریج دی تھی۔ اس کا پلان یوں بنایا گیا تھا کہ ہزاروں امریکی فوجی شوراب میں قائم امریکی کیمپ سے نکلیں گے، جس میں امریکا کی سمندری میرین افواج بھی خصوصی طور پر شامل ہوں گی۔ یہ فوجیں ’دشتِ سیستانی‘ کی جانب بڑھیں گی۔ سیستانی ریگستان سے گزر کر تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں گی۔ ایک حصہ ناوہ، دوسرا گرمسیر اور تیسرا گروپ ضلع خانشین پر حملہ کرے گا۔ اسی وقت لشکر گاہ سے برطانوی فوجی ’’پنجۂ شیر‘‘ آپریشن کا آغاز کریں گے اور ناد علی اور باباجی کے علاقوں میں داخل ہو جائیں گے۔

جارحیت پسندوں کے آپریشن بہت خطرناک تھے۔ جو جولائی 2009 میں شروع ہوئے اور کئی ہفتے جاری رہے۔ اس آپریشن کے مقابلے میں مجاہدین نے فولادی جال کے نام سے آپریشن شروع کر دیا، مگر چوں کہ دشمن نے انتہائی شدید مظالم کیے۔ عوامی علاقوں پر  بمباری کی اور بھاری میزائل برسائے۔ اس طرح جارحیت پسندوں نے مذکورہ پانچ اضلاع کے اکثر علاقوں پر  قبضہ کر کے وہاں مضبوط اڈے بنا لیے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے گزشتہ آٹھ سالوں میں بہت زیادہ اخراجات کیے ہیں۔ درجنوں اڈے، مضبوط کیمپ اور پختہ مورچے تعمیر کیے ہیں۔ ہزاروں اربکی بھرتی کیے اور داخلی فوجی تعینات کر دیے، تاکہ ان کے جانے بعد اس علاقے کا تحفظ کیا جا سکے۔

امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے رواں سال منصوبہ بنایا کہ مذکورہ علاقوں جیسے ناوہ، گرمسیر، خانشین، ناد علی اور باباجی سے دشمن کا زور توڑنا ہے اور یہ علاقے واپس لینے ہیں۔ ان علاقوں کی فتح کے لیے رواں سال 30 جولائی سے  ضلع خانشین سے آپریشن شروع کیا گیا اور مجاہدین کی تھوڑی سی مزاحمت کے بعد اللہ کے فضل سے ضلع خانشین فتح ہوگیا۔ اس کے بعد نادعلی پر حملہ کیا اور اس ضلع کے تمام مضافاتی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ درجنوں غلام فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ بچ رہنے والے فوجی ضلعی مرکز میں محصور ہو گئے۔ تین اگست کو لشکرگاہ کے قریب چاہ انجینئر کا اہم علاقہ فتح ہو گیا۔ اس کے بعد دس اگست کو ضلع ناوہ مجاہدین کے ہاتھوں فتح ہو گیا۔ اب بھی گرمسیر کے مرکز کے علاوہ تمام علاقے مجاہدین کے پاس ہیں۔ اب بھی ان پانچ اضلاع کے صرف مراکز میں دشمن محدود تعداد میں موجود ہے۔ ان مراکز کے آس پاس کے تمام علاقے مجاہدین کے ہاتھوں فتح ہو چکے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالی نے وہ علاقہ، جہاں دشمن نے 8 سال محنت کی تھی، اپنے اربکی تعینات کیے تھے، مضبوط اڈے تعمیر کیے تھے، اللہ تعالی نے دو ہفتوں کے دوران دشمن کا تمام تر غرور خاک میں ملا دیا ہے۔

سوال:        کہا جا رہا ہے کہ ہلمند میں مجاہدین نے عجیب و غریب جنگی طریقے استعمال کیے ہیں۔ یہاں تک کہ دشمن انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ چھ مجاہدین نے 40 فوجیوں  سے بھری چیک پوسٹ فتح کر لی ہے۔ اس حوالے سے مجاہدین کی پیش رفت اور فتوحات کا راز کیا ہے؟

جواب:        مجاہدین کی قوت کا راز اخلاص نیت، تقوی اور اپنے رہنماؤں کی پوری اطاعت ہے۔ یہی وہ اہم ہتھیار ہے، جس کے ذریعے شیطانی دشمن کو شکست دی جا سکتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مجاہدین بہت اچھی جنگ کے تجربے کے حامل ہو گئے ہیں۔ وہ ایسے مؤثر طریقہ کار استعمال کرتے ہیں، جس سے دشمن پریشان ہو جاتا ہے۔ کبھی دشمن کی صفوں میں مجاہدین گھس کر کارروائی کرتے ہیں۔ کبھی ان کے آپس کے اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کبھی انہیں آپس میں بدگمان اور ایک دوسرے کی نظر میں مشکوک ٹھہرا کر کام نکالا جاتا ہے۔ اس طرح دشمن سے جدید اسلحہ، رات میں  دیکھنے کے لیے وسائل اور دیگر جنگی وسائل غنیمت میں حاصل کیے ہیں، جن کے ذریعے مجاہدین چیک پوسٹوں پر اچانک حملے کرتے ہیں اور دشمن کو ردِعمل سے پہلے ہی مار ڈالتے ہیں یا ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کچھ دیگر جنگی طریقے بھی ہیں، جو بیان نہیں کیے جا سکتے۔

سوال:        جو علاقے فتح ہو چکے ہیں، وہاں لوگوں کو پُرامن زندگی، اطمینان اور انصاف میسر ہے؟

جواب:        جو علاقے مجاہدین کے ہاتھوں فتح ہو چکے ہیں، عوام کے لیے سب سے زیادہ اطمینان کی بات تو یہ تھی کہ وہاں سے کرپٹ انتظامیہ، غیراسلامی نظام اور اس کے اوباش اور بدنام اربکیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ عوام ان لوگوں سے بہت تنگ تھے۔ وہ لوگ عوام کے مال کا خیال رکھتے تھے اور نہ ان کی زندگی کو اہمیت دیتے تھے۔ گھر لوٹ لینا، عوام کو تکلیف دینا ان کی روزانہ کی مصروفیت تھی۔ ان علاقوں میں مجاہدین کی آمد پر مظلوم عوام نے خوشی کے آنسوؤں سے ان کا استقبال کیا ہے۔ امارت اسلامیہ نے مفتوحہ علاقوں کے تحفظ اور وہاں عوام کے جان و مال، عزت اور تمام شرعی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے گزشتہ دورِ حکومت کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کام کیا ہے۔ صحت، تعلیم، رفاہی خدمات اور لوگوں کی خوش حالی کے لیے تمام شعبوں میں حتی الوسع کوشش کی گئی ہے۔ قیادت کی جانب سے مجاہدین کو حکم دیا گیا ہے کہ عوام سے پوری طرح نرمی اور خوش اخلاقی کا سلوک کریں۔ مکمل کوشش کریں کہ مظلوم مسلمانوں کو سفید پرچم تلے سکون کا سانس مل  سکے اور سالوں کی تکالیف سے انہیں آرام ملے۔ عوام کو کہہ دیا گیا ہے کہ آپ کے جو رشتہ دار کابل انتظامیہ کے ساتھ کام میں شامل ہیں، انہیں باہر نکال لیں۔ ہماری طرف سے ان کے لیے عام معافی ہے جس سے عوام میں اَور بھی خوشی پھیل گئی۔ عوام کے زمین یا دیگر تنازعات کی وجہ سے جو باہمی مسائل تھے، تمام کے تمام امارت اسلامیہ اور شرعی عدالتی نظام کے آنے سے حل ہو گئے ہیں۔ اب تمام علاقوں میں لوگ خوشی اور آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کٹھ پتلی انتظامیہ کے خلاف اپنے مجاہدین کے شانہ بشانہ پوری قوت اور سنجیدگی سے کھڑے ہیں۔ اپنی زندگی پر اللہ تعالی سے راضی ہیں۔

سوال:        افغانستان  کے دیگر علاقوں کے جہادی حالات کیسے ہیں؟

جواب:        افغانستان کے دیگر علاقوں میں بھی جہادی کارروائیاں پوری قوت سے جاری ہیں۔ بدخشان، نورستان، تخار، قندز، بغلان، پکتیا، ننگرہار، فاریاب، فراہ اور دیگر بہت سے علاقوں میں مجاہدین دشمن سے مکمل اضلاع خالی کروا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کابل میں  دشمن پر کاری حملے ہو رہے ہیں۔ افغانستان کے مختلف علاقوں میں روزانہ دشمن کے افراد ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ جلب و جذب کمیشن کے ذریعے امارت اسلامیہ کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ مجاہدین کو تفریق اور تقسیم کرنے کے لیے دشمن کے کئی منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔ امارت اسلامیہ ماضی کی نسبت تعلیم، دعوت و ارشاد، عالمی تعلقات، ثقافتی اور میڈیائی جہاد اور دیگر شعبوں میں بھی قابل ذکر کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔ عوام میں ان کی محبت ماضی کی نسبت زیادہ ہو گئی ہے۔ دوسری طرف دشمن انتظامیہ انتہائی برے حالات سے دوچار ہے۔ ان کے آپس کے اختلافات عروج پر ہیں۔ ان کے فوجی جنگ کا حوصلہ ہار چکے ہیں۔

سوال:        امریکا نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں مزید فوجی بھیجے گا اور اس سلسلے میں ہلمند میں کچھ تازہ دم فوج بھیجی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ راتوں کے چھاپوں اور بی 52 طیاروں کی بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ دیگر جدید وسائل کے استعمال سے مجاہدین کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔ آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

جواب:        میرا خیال ہے کہ امریکا کے اس بیان کے نتائج معلوم کرنا مشکل معاملہ نہیں ہے۔ گزشتہ پندرہ سالہ تجربہ سب کے سامنے ہے۔ سب نے دیکھا کہ افغانستان میں مختلف کفریہ ممالک نے ہزاروں فوجی بھیجے۔ طرح طرح کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، مگر ہمارے عوام کا اللہ پر مضبوط ایمان تھا۔ وسائل کے بجائے اللہ پر بھروسا تھا۔ فتح یا شہادت کی امید پر لڑتے رہے۔ اللہ تعالی نے ان کے مقابلے میں کھڑے کفر کے سارے پرچم سرنگوں کر دیے۔ امریکا نے کبھی یہاں ایک لاکھ تیس ہزار فوجی بھیجے تھے، مگر سب جانتے ہیں کہ جنگ کا فاتح کون ہے؟ امریکا کے یہ سارے اقدامات ہمارے عوام کا ایمان متزلزل نہیں کر سکیں گے، بلکہ اس طرح ان کا معاشی اور عسکری نقصان اَور بڑھ جائے گا۔ امریکا مزید شکست کی طرف جا رہا ہے۔

سوال:        امارت اسلامیہ کے ترجمان کی حیثیت سے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب:        آپ نے قارئین کا تذکرہ کیا ہے تو مَیں اپنے ان بھائیوں سے کہنا چاہوں گا کہ ہر شعبے میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین سے تعاون کریں۔ ایسے لوگ، جو مجاہدین کے میڈیا ذرائع یعنی میگزینز اور سی ڈیز سے وابستگی نہیں رکھتے، انہیں حقائق سے باخبر کریں، تاکہ وہ بھی مجاہدین کے معاون و مددگار بنیں۔ مجاہدین بھی اپنے رہنماؤں کی پوری پوری اطاعت کریں۔ اسی میں دنیا و آخرت کی خیر پوشیدہ ہے۔

 

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*