haqpal

الحاج مولوی نور محمد حقپال

سپین غر کے فلک بوس چوٹیوں کا شیر صفت مجاہد الحاج مولوی نور محمد حقپال کا مختصر تذکرہ

مفتی ابومحمد حقانی

ہرگزنمیرد آنکہ  دلش زند شد بعشق         ثبت است برجریده عالم دوام ما

مشرق کے نابغہ روز گار اور اسلامی وحدت کے عظیم داعی سید جمال الدین افغانی رح نے کیا خوب کہا ہے کہ: “مشرق میں بڑا اور نامور آدمی جب زندہ ہوتو مردہ ہوتا ہے اور جب مرجاتاہے تو زندہ ہوجاتاہے”۔

یہ بات سچ ہے کہ ہمارے معاشرے میں زندہ علمی ، جہادی یا سماجی شخصیات کا اس درجہ احترام نہیں ہوتا اور نہ ان کی تعریف کوئی کرتا ہے ۔ یہ لوگوں کے درمیان غائب ہوتے ہیں ۔ اور اگر ان کا کوئی علمی اثر یا جنگی کارنامہ سامنے نہ آئے تو کوئی اسے جانتا بھی نہیں اور نہ کوئی ان کے استعداد اور صلاحیت پر فخر کرتا ہے ۔ مگر جب مرجاتا ہے اور ان کی آنکھوں سے فنا ہوجاتا ہے تو پھر ان کی یاد منائی جاتی ہے ، مرثیے اور نظمیں کہی جاتی ہیں ۔ سوانح اور شخصیت پر تحریریں لکھیں جاتی ہیں ۔اب وہ لوگوں کے لیے سب کا متفقہ اور پسندیدہ شخص بن جاتا ہے ۔ مگر اب پانی گذرچکا ہوتا ہے ، وہ خاک میں مل چکا ہوتا ہے ۔ خوشحال خان خٹک نے اپنے ایک ایک شعر یہی مفوم پیش کیا ہے :

دخوشحال قدر کہ نن پہ هیچا نشتہ              پس لہ مرگہ بہ یی یاد کا ڈیر عالم

)خوشحال کی قدرآج کوئی نہیں جانتا موت کے بعد اسے بڑی دنیا یاد کرےگی(

بات مولوی نور محمد حقپال کی شجاعت اور بہادری کی کرنے لگا تھا۔ یہ فقید المثال شخص ایسی عجیب وغریب صفات کا مالک تھا کہ ہمارے جیسے اور بہت سے اس سے بے بہرہ ہیں ۔ ان کی شخصیت کی خصوصیات کے متعلق میری معلومات اس لیے ہیں کہ میں اس وقت پشاور میں پانچویں درجے میں پڑھ رہا تھا اور مولوی صاحب میرے ساتھ چند کتابوں میں شریک تھے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بہت پہلے ہی اس جہادی شخصیت کی سوانح یاکارناموں کا تذکرہ کرتا مگر بدقسمتی ہے کہ انسان بعض اوقات بڑی سے بڑی بھی بھول جاتا ہے ۔ ثقافتی کمیشن کے سربراہ کی زندگی میں اللہ تعالی مزید عطافرمائے انہوں نے بار بار ترغیب دلائی یہاں تک کہ چند الفاظ لکھنے کی توفیق ہوگئی ۔ اس وقت جب روسی جارحیت کے خلاف جہاد جاری تھا ، وہ مولوی یونس خالص مرحوم کی قیادت میں اسلامی حزبمیں انجنیئر محمود کے گروپ میں ایک فعال اور تیز مجاہد کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھےاور سپین غر اور تورغر کی چوٹیوں پر عقاب کے جیسے دشمن پر حملہ آور ہوتے ۔

پیدائش:

مولوی نور محمد ننگرہار ضلع خوگیانو کے علاقے وزیرو میں پیرہ خیل میں پیدا ہوئے ۔ الحاج خیر محمد کے گھرمیں 1979 میں پیدا ہوئے ۔ اسلامی ماحول میں بڑے ہوئے ۔ جہاد اور علم کے کرشموں سے اپنا بہرہ حاصل کیا اور بالآخر اسی راہ میں اپنا پاکیزہ اللہ تعالی کو نذرانہ کردیا۔

تعلیم اور فراغت:

انہوں نے اپنے ماحول کی مشکلات اور ہجرت کی صعوبتوں کی باوجود اپنا علمی سلسلہ جاری رکھا۔ اور ملک کے دیگر علماء کی طرح ابتدائی کتابیں دیارہجرت میں پڑھیں اور 1993 میں پشاور میں دورہ حدیث پڑھا۔ اسی سال دستاربندی ہوئی ۔ اس سے قبل انہوں نے پانچ سال اپنے گاوں کی ایک مسجد میں امامت کے فرائض بھی انجام دیے ۔ اور ایک مدرسے میں تدریس بھی کرتے رہے ۔ اور دوسرے علماء کی طرح مجاہدین رہنماوں کی آپس کی لڑائیوں میں ملوث رہنے سے خود کو بچایا۔ یہاں تک کہ میوند سے طالبان تحریک کا پرچم اٹھا اور وہ اپنے عظیم قائد ملا محمد عمر مجاہد کی قیادت میں اس لشکر میں شامل ہوگئے ۔

ذوالھجرتین شہید:

روسی جارحیت کے وقت ان کی عمر آٹھ سال تھی ۔ اسی وقت سے انہیں جہاد سے بے پناہ محبت تھی ۔ اسی لیے انہوں نے اپنے خاندان سمیت 1979 میں ہجرت کی اور پاکستان پشاور میں پیو کے مہاجر بازار میں رہنے لگے ۔روس کی شکست کے بعد عام افغان اپنے شہروں کو واپس چلے گئے ۔ امارت اسلامیہ کے دور حکومت میں انہوں نے بڑے عہدوں پر کام کیا ۔ امریکی جارحیت کے بعد انہیں ذوالہجرتین کی سعادت بھی ملی اور بالاخر 2001 میں پھر ہجرت کرکے پرانے دیار  کو پہنچے ۔ جارحیت پسندوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے ۔ اپنے زنگ آلود ہتھیار  صاف کیے اور اسلامی نظام کے دشمنوں کے خلاف کمر بند باندھ کر نکل پڑے ۔

اسلامی تحریک طالبان میں شمولیت:

یہ وہ دور تھا جب داخلی جنگجووں ، شرپسند عناصر اور مفاد پرست حلقوں کی جانب سے ملک کو خطرات لاحق تھا ۔ افغانستان تقسیم درتقسیم ہوکر ٹکڑوں میں بٹنے لگا تھا ۔ اسی لیے ملک کے طلباء اور علماء کواپنے ایمانی اور اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شرپسندوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا پڑا۔ افغان عوام کی خوش قسمتی تھی کہ قندہار کے افق پر امیرالمومنین ملا محمد عمر مجاہد کی قیادت میں طلبہ وعلماء کی ایک جماعت اٹھی۔ جو خوست تک پہنچی اور مولوی نور محمد صاحب بھی اپنے استاد مولوی محمد ظاہرکی قیادت میں ایک گروپ سمیت اس میں شامل ہوگئے ۔  یہ گروپ 1996 میں طالبان تحریک میں شامل ہوگیا۔ تحریک کے رہنماوں کے حکم پر لبیک کہا۔ یہاں تک کہ طالبان کے فاتح کمانڈرملابورجان شہید کے ہاتھوں ننگرہار فتح ہوگیا اور فاتح لشکر کابل کے ماہی پر دروازے تک آپہنچا۔

ذمہ داریاں اور خدمات:

ننگرہار کی طالبان کے ہاتھوں فتح کے بعد مولوی محمد ظاہر نصرت جوعسکری لحاظ سے انتہائی تجربہ کار اور مخلص مجاہد تھے۔انہیں  طورخم اور سرحدی عسکری چوکیوں کے عمومی نگران مقرر کیے گئے ۔ مولوی نور محمد حقپال بھی ان کے ساتھ رہے ۔ کچھ عرصہ بعد مولوی ظاہر شہید ہوگئے ۔ ننگرہار کے ذمہ داران نے ان کی جگہ محمد اللہ وحدت کو جنرل عسکری کمانڈر پر تعینات کیا اور مولوی نور محمد کو ان کا نائب متعین کیا۔ مولوی محمد اللہ وحدت اکثر اوقات شمال میں مخالفین سے جنگوں کی کمان سنبھالتے ۔

اس لیے مولوی نور محمد شہید یہاں نگران اور سرپرست رہے ۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مولوی محمد اللہ کابل میں گل درے میں شہید ہوگئے اور ان کی جگہ مولوی نور محمد کو تعینات کیا گیا۔ اس کے علاوہ شمال میں خط اول پر جنگی تشکیلات میں ان کا بارہا طلب کیا گیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ ننگرہار کے سب سے ہم اسٹریٹجک ضلع “درہ نور” کے ضلعی سرپراہ بھی تعینات کیے گئے ۔ اس کے بعد ننگرہار میں میں ہسکہ مینا کے ضلعی سربراہ تعینات کیے گئے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے ننگرہار حکام کے حکم پر وقتا فوقتا عسکری قطعات اور گروپوں کی سرپرستی بھی کی ۔ طورخم کے شمشاد اقصی بریگیڈ کے کمانڈر رہے ۔ اس کے علاوہ دیگر سرحدی علاقوں کے نگران اور ذمہ دار رہے ۔

امریکا کی جانب سے امارت اسلامیہ پر جارحیت کے بعد ننگرہار کے عسکری امور کے ذمہ دار کے طورپر ان کا تقرر اور ان حالات میں نئے انقلاب اور صلیبی جارحیت کے خلاف ننگرہار کے علاقے میں جہاد کے نوجوانوں کو تیار کیا۔

ایک ناقابل فراموش تاریخی کارنامہ:

دیگر جہادی اور جنگی کارناموں کے علاوہ بڑا قابل فخر کارنامہ یہ ہے کہ موی نور محمد شہید نے ان شدید حالات میں جب امریکا اور اس کا صلیبی اور اس کے داخلی کٹھ پتلی ہر طرح کے جدید وسائل سے لیس ہوکر مجاہدین کے خلاف سرگرم تھے ۔ تورہ بورہ ان کی بمباریوں کا خاص ہدف تھا۔ جس طرح کہ ان کا خیال تھا کہ شیخ اسامہ بن لادن شہید رحمہ اللہ تورہ بورہ میں اپنے تمام عرب مجاہدین سمیت موجود اور محصور ہیں ۔ دشمن ایک لمحہ کے لیے بھی یہاں سے غافل نہیں تھا۔ انہیںشدید حالات میں مولوی نور محمد اپنے مجاہدین کے ساتھ تعاون کے لیے تورہ بورہ محاذ پر گئے اور عرب مجاہدین کو بحفاظت باہر نکالنے کے لیے راستے اور وسائل مہیاکیے ۔ اللہ کے فضل سے ان کا منصوبہ کامیاب رہا اور تمام مجاہدین بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے ۔ اس کے بعد جارحیت پسندوں کے خلاف عسکری میدان میں تدریجی طورپر کام کیا ۔

دو بھائی اور ایک بیٹا شہید:

امارت اسلامیہ کے پرچم تلے مولوی نور محمد نے اپنے دو بھائیوں اور ایک نوجوان بیٹے اللہ کی راہ میں قربان کردیے ۔ ایک بھائی ملک عنبرگل نمایاں عسکری تجربہ رکھنے والے نڈر مجاہد تھے جنہوں نے آپ کی شہادت کے بعد آپ کے ساتھیوں کی کمان سنبھالی ۔ دوسرے بھائی کمانڈر احمد حنیف تھے جن کی جراتوں کی الگ تاریخ ہے۔ دشمنوں کے ایک چھاپے میں شہید ہوگئے ۔ حال میں ان کے اٹھارہ سال نوجوان بیٹے “طالب الحق” داعش کے جنگجووں کے ساتھ لڑائی میں شہید ہوگئے ۔ اس میں شک نہیں کہ مولوی نور محمد کا خاندان شہادت اور قربانی میں دوسروں سے زیادہ نمایاں مثالیں رکھتا ہے ۔

خصوصیات :

مولوی نور محمد رح میں ایک کامل انسان کی خصوصیات موجود تھیں ۔ جن خصوصیات کی بدولت ایک انسان اوج کمال تک پہنچتا ہے وہ سب اللہ تعالی نے انہیں عطاکی تھیں ۔ جہاں تک میں انہیں جانتا تھا وہ ایک انتہائی متواضع ، تقوی دار اور فقیر مزاج آدمی تھے ۔ ہر طالب اور مجاہد ساتھی سے عاجزی سے پیش آتے ۔ ہمیشہ سادہ سا لباس پہنتے ، اپنے متعلق کبھی انہیں یہ خیال نہ ہوتا کہ میں نمایاں رہوں ۔ جہاد سے محبت ان کی خاص خصوصیت تھی ۔ پڑھائی کے دوران بھی جہاد میں شرکت کے لیے نکلتے ۔ اجتماعیت اور اچھے اخلاق ان کی خاص خصوصیت تھی ۔ اللہ تعالی نے انہیں اخلاق کریمانہ دیےتھے ۔ اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے ہی تمام ساتھی ان سے محبت کرتے ۔ خلاصہ یہ کہ اللہ تعالی نے ان میں وہ خصوصیات رکھیں تھیں جو ایک کامل انسان بننے کے لیے ضروری تھیں ۔

شہادت:

مولوی نور محمد حق پال جہاد کی راہ میں کسی سے ڈرتے نہ تھے ۔ نہ کسی کی عداوت کی پروا کرتے ۔ ننگرہار اور خوگیانو میں جہادی حملے کرتے رہے ۔ ان کی کارروائیاں دیکھ کر دشمن نے انہیں اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھا اس لیے دیار ہجرت میں یکم ستمبر 2004 کو انہیں ایک بزدلانہ ٹارگٹ حملے میں شہید کرڈالا۔

یادیں اور باتیں :

حافظ مولوی عصمت اللہ عاصم صاحب مرحوم کی بہادری ، اطاعت اور دیگر صفات کے حوالے سے فرماتے ہیں محترم مولوی نور محمد حق پال رواں جہاد میں ہمارے بالکل ابتدائی ساتھیوں میں سے تھے ۔ انہوں نے شروع ہی سے جہاد کے لیے اسلحہ اٹھایا اور شہادت تک اٹھائے رکھا۔ وہ انتہائی وفادار اور مطیع ساتھی تھے ۔ امارت اسلامیہ کے دور حکومت میں جب ہم ساتھ رہتے تھے اور ہماری دوستی بھی بہت مضبوط تھے  میں نے انہیں بہت قریب سے دیکھا ۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بہت مخلص تھے ۔ ان کی قسم کی مدد سے دریغ نہیں کرتے تھے ۔ انہیں شہادت کی شروع ہی سے تمنا تھی ۔ مجاہدین کے درمیان اتحاد واتفاق ان کی ہمیشہ خواہش تھی ۔ اپنی سرزمین اور مٹی سے بہت محبت رکھتے تھے ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

افغانستان کی معروف علمی ، جہادی اور سیاسی شخصیت محترم مولوی محمد یونس خالص رح کے صاحبزادے اور جانشین مولوی انوار الحق مجاہد صاحب جن کے مولوی نور محمد شہید سے انتہائی گہرے تعلقات تھے ۔ اپنی یادوں کا تذکرہ کچھ اس طرح کرتے ہیں :امریکی جارحیت کے بعد جب دوبارہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی صفیں ترتیب پارہی تھیں اس وقت ضرورت ایسے متفقہ شخصیت کی تھی جس کے تقوی ، قربانی اور بہادری پر سارے مجاہدین متفق ہوں اور سب ان کا احترام کریں ۔ قیادت نے ہم علاقے والے مجاہدین سے رائے طلب کی ۔ تقریبا تمام مجاہدین کی جانب سے جو نام دیا گیا وہ انہیں مولوی نور محمد شہید کا تھا۔

تورہ بورہ والے علاقے کے متعلق فرماتے ہیں جارحیت کے آغاز اور بمباری کے دنوں میں جب مہمان مجاہدین تورہ بورہ میں بند تھے مولوی نور محمد مرحوم انتہائی پریشان تھے ۔ اس بات نے انہیں بے چین کر رکھا تھا کہ ان کے مہمان عرب مجاہدین تورہ بورہ میں بمباری میں شہید ہوجائیں اور یہ لوگ جان بچاکر بھاگ جائیں ۔ اسی بے چینی کی وجہ سے انہوں نے تورہ بورہ جاکر ان عربوں کی مدد کی اور انہیں بحفاظت باہر نکالنے میں کامیاب ہوگئے ۔ ان کے اس کارنامے پر ان کے ساتھی اور جانشین جتنا بھی فخر کریں کم ہے ۔

ملانیک محمد رہبر مولوی صاحب مرحوم کے چھوٹے بھائی ،جانشین اور ننگرہار میں عسکری قطعات کے جنرل کمانڈر ہیں ۔ وہ اپنے شہید بھائی کے متعلق فرماتے ہیں : مجھے وہ رات نہیں بھولتی جب ننگرہار خوگیانو میں ہمارے گھر پر امریکی اور افغان فوجیوں نے چھاپہ مارا ۔ ان کی تعداد درجنوں میں تھی ۔ ان کے ہمراہ فضا میں ہیلی کاپٹر اور زمینی بکتر بند گاڑیاں تھیں ۔ میں نے دیکھا میرے شہید بھائی سپین غر کے شاہین کی طرح جارحیت پسندوں پر ٹوٹ پڑے تھے ۔ گھر کو مورچہ بناکر لڑتے رہے ۔ ان کے ہمراہ ہمارے دوسرے بھائی ملک عمیر ان کے ساتھ کھڑے تھے ۔ وہ راکٹ سے دشمن پر فائر کررہے تھے جبکہ مولوی صاحب 62 گن سے دشمن کو نشانہ بنارہے تھے ۔ میری ماں اور عظیم مجاہدہ خاتون مولوی صاحب کے کندھا سے کندھا ملائے کھڑی تھی اور مسلسل حوصلہ دیے جارہے تھے ۔ بیٹا حوصلہ مت ہارنا میں اپنے آخری سانس تک تمھارے ساتھ کھڑی ہوں ۔ اس وطن کے دشمنوں کے مقابلے میں ایک قدم پیچھے نہیں ہٹنا ۔ گھبراو مت ۔ شہادت تک لڑتے رہو ۔ وہ خود گولیاں اٹھااٹھا کر ان تک پہنچاتھیں اور بالکل ہی ساتھ کھڑی ہوتیں ۔ بھائی نے بھی خوب مقابلہ کیا ۔ ہمارے چھوٹے بھائی ملا احمد حنیف گھر سے باہر بیٹھک میں تھے ۔ جنگ کے آغاز ہی سے وہ زخمی ہوگئے تھے ۔ ہم باہر جاکر اسے لانا چاہتے تھے مگر دشمن کی فائرنگ اس شدت سے تھی کہ باہر نکلنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا ۔ مولوی نور محمد نے کئی بار کوشش کی مگر بھائی نے کہا میں تو ویسے بھی جارہاہوں تم باہر مت آو ۔ جنگ کے بعد جب ہم انہیں اندر لائے تو دیکھا کہ وہ ملا احمد حنیف شہید ہوگئے تھے ۔

ساری رات ہم جارح دشمن سے لڑتے رہے جب تک دوسرے مجاہدین ہماری مدد کو نہ پہنچے ۔ جب دوسرے مجاہدین ساتھی پہنچ گئے اور دشمن دشمن شکست کھاکر بھاگ گیا ۔ اس وقت ہم نے دیکھا کہ ملا احمد حنیف خون میں لت پت پڑے تھے ۔ اپن جان جان آفرین کے سپرد کرگئے تھے ۔ جبکہ خاندان کے دیگر افراد معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے تھے ۔

ملنگ کاکا نامی شہید کے ایک اور ساتھی ان کے متعلق فرماتے ہیں: 1998 میں جب مرحوم ہمارے شمالی خطوط کے ذمہ دار تھے تو ان کے دوسرے بھائی ملا احمد حنیف زخمی ہوگئے ۔ خود  مولوی صاحب بھی ہاتھ پر زخمی ہوگئے تھے مگروہ نہیں چاہتے تھے کہ اپنے زخم سے اپنے چھوٹے بھائی یا دوسرے مجاہدین کو مطلع کریں ۔ اس لیے خود پر چادر لپیٹ کر کابل میں زخمیوں کی عیادت کے لیے چلے گئے ۔ ننگرہار کے پولیس سربراہ مولوی احمد طہ بھی اس وقت کابل میں تھے ۔ انہوں نے دیکھ کر بے ساختہ اللہ تعالی تمھارا سایہ ہم پر تادیر سلامت رکھے ۔ انہوں نے جواب میں کہا اگر میں شہید ہوجاوں تو میرے بھائی ہیں وہ میری جگہ ظالموں سے بہت اچھا حساب کتاب لیں گے ۔ ملنگ کاکا نے کہا ایسا ہی ہوا اور مولوی صاحب کے بھائیوں نے بھی جہاد کی راہ خوب نبھائی ۔

لواحقین:

الحاج مولوی نورمحمد حقپال کے ساتھ بھائی اور گیارہ بچے تھے ۔ بھائیوں میں سے دو ان سے بڑے اور چار چھوٹے تھے ۔ نورمحمد شہید سمیت تین شہید ہوگئے جبکہ ایک بھائی کا انتقال سعودیہ میں ہوا ۔ تین بھائی ابھی حیات ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے کہا ان کے گیارہ بچے ہیں ۔ چار بیٹے اور سات بیٹیاں ۔ ان کا ایک بیٹا حال ہی میں شہید ہوگیا ۔ تین بیٹے ابھی حیات ہیں ۔ ان کی وہ بہادر والدہ جو محاصرے میں انہیں گولیاں لاکر دے رہی تھیں وہ بھی ابھی تک حیات ہیں ۔

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*