saleem haji

مولوی سید محمد حقانی صاحب حالات زندگی پر نظر

عبدالرؤف حکمت

2 جنوری 2016 کو امارت اسلامیہ کی اہم ستون اور عظیم شخصیت مولوی سید محمد حقانی نے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا ۔ ماہانہ سلسلہ سوانح میں ان کے حالات زندگی  پرایک نظر ڈالی گئی ہے جو آپ کی نذر کی جارہی ہے ۔

مولوی سید محمدحقانی حاجی لعل محمد اخوند کے صاحبزادے ، پشتون اچکزئی قبیلے سے تعلق تھا ۔ 1982میں قندہار ضلع ڈنڈ کے مضافاتی علاقے میں شہر کے قریب علاقے محلہ جات میں ایک دیندار اور علمی گھرانے میں آنکھ کھولی ۔وہ اپنے عالم باپ کے سب سے بڑے بیٹے تھے ۔ بچپن ہی سے تعلیم کا آغاز کیا ۔ گھر میں ابتدائی تعلیم کے بعد بہت کم عمری میں علاقے کے ایک جید عالم مولوی لال محمد اخند جو ننھیالی رشتے میں ان کے نانا لگتے تھے ان سے دینی علوم کا آغاز کیا اور ابتدائی کتب پڑھیں ۔

کمیونسٹ انقلاب کے بعد علم کے لیے سفر سے پہلے قندہار شہر میں مختلف مساجد میں علماء کرام سے دینی علوم حاصل کیے ۔ اور پھر علم کی تلاش میں پاکستان چلے گئے ۔

علم سے بے انتہاء محبت:

حقانی صاحب کا اپنا بیان ہے کہ تعلیم اور طالب علمی کا وقت کتاب کے علاوہ کہیں بھی صرف نہیں کیا ۔ ان کے قریبی رشتہ دار اور ساتھی بھی یہی گواہی دیتے ہیں کہ وہ ایک محنتی طالب علم تھے یہاں تک کہ عصر تا مغرب کی چھٹی کے اوقات میں بھی مطالعہ ہی کرتے ۔ مرحوم حقانی صاحب کے ماموں ملا محمد حسن اخوند کہتے ہیں کہ حقانی صاحب کو علم سے بے انتہا محبت تھی ۔ ان کا گھر قندہار میں تھا جو کوئٹہ سے قریب بھی تھا مگر علم کے لیے وہ ایک ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ سفر پر رہتے ۔ 13 ماہ بعد گھر لوٹتے ۔ گھر لوٹنے کے بعد بھی ساری مصروفیت تعلیم ہی رہتی ۔

1994 میں اکتوبر میں اس وقت جب حقانی صاحب کے وطن اصلی قندہار میں طالبان تحریک کے نام سے ایک نئی تحریک اٹھی حقانی صاحب صحاح ستہ کے طالب علم تھے ۔ اور ابھی فراغت کی دہلیز پر تھے ۔

انہوں نے احادیث کی اجازت معروف عالم شیخ ابوعبداللہ نورحبیب سواتی سے حاصل کی اور شیخ الحدیث عبدالبصیر صاحب سمیت متعدد مشہور علماء سے دستار فضیلت باندھی ۔

تین دن آرام:

حقانی صاحب کے ماموں ملا محمد حسن کہتے ہیں : حقانی صاحب کی فراغت کے بعد جب ہم نے قندہار کا رخ کیا تو بولدک سے آگے راستہ بند تھا ۔ کیوں کہ شہر میں طالبان نے جنگ شروع کررکھی تھی ۔ کچھ دیر بعد جب طالبان نے شہر فتح کیا تو وہ بھی گھر چلے گئے ۔ حقانی صاحب نے تین دن گھر میں گذارے اور چوتھے دن گھر سے نکل پڑے ۔ انہوں نے طالبان تحریک میں شمولیت اختیار کی اور پھر تادم وفات اس خدمت میں مشغول رہے ۔

ملا محمد حسن اخند کہتے ہیں : حقانی صاحب کی والدہ کو اپنے بڑے ، صالح اور شریف بیٹے سے جی بھر کے ملنے کی زندگی بھر حسرت رہی ۔ بہت بچپن سے ہی علم کے لیے سفر کا آغاز کیا ۔ اور جب علم سے فارغ ہوئے تو تین دن بعد جہاد کی خدمت کا آغاز کیا اور اسی میں اللہ کو پیارے  ہوگئے ۔

امارت اسلامیہ میں خدمت اور ذمہ داریاں

جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں مولوی سید محمد حقانی صاحب طالبان کے ہاتھوں قندہار شہر کی فتح کے بعد ان اولین لوگوں میں تھے جنہوں نے خدمت کا آغاز کیا ۔ انہوں نے قندہار میں اطلاعات وثقافت کے دفتر سے کام کا آغاز کیا ۔ اطلاعات وثقافت کا مرکزی دفتر جو اس وقت جنگجو کمانڈروں کا مرکز اور چرس کا اڈہ بن گیا تھا ۔ سید محمد حقانی صاحب سمیت تحریک کے دیگر نوجوانوں کی ہمت اور محنت سے علم وثقافت کا مرکز بن گیا ۔

طالبان جب قندہار میں داخل ہوئے تو بہت تھوڑے عرصے بعد یعنی اسی سال کے دوران انہوں نے قندہار سے شائع ہونے والا مشہور روزنامہ اخبار طلوع افغان شائع کروایا ۔ بلکہ ریڈیو اسٹیشن بھی فعال کروایا ۔ اس کے بعد “خلافت” اور “قندہار” کے نام سے میگزینوں کی اشاعت شروع کی ۔ رونامہ طلوع افغان میں اسی سال کے اوائل میں مرحوم حقانی صاحب کی چند تحریریں بھی شائع ہوئیں ۔

مرحوم حقانی صاحب کو بعد ازاں قندہار میں وزارت اطلاعات وثقافت کا سیکرٹری اور کچھ عرصہ بعد اور بعد ازاں اسی شعبے کا سربراہ متعین کیا گیا ۔ انہوں نے اپنی ذمہ داری کے دوران بہت سی قابل توجہ خدمات انجام دیں ۔

طالبان کی جانب سے کابل کی فتح کے بعد انہیں سیکرٹری خارجہ اور بعد ازاں امارت اسلامیہ کے مرکزی انتظامی آفس کا سربراہ متعین کیا گیا ۔

چونکہ طالبان سے قبل دارالحکومت کابل اور دیگر صوبوں میں حکومتی انتظامی سسٹم بالکل مفلوج ہوگیا تھااس لیے طالبان کے بڑے کارناموں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے پورے ملک کا نظم وضبط پھر سے فعال کیا اور انفراسٹرکچر بحال کروایا۔ اس حوالے سے حقانی صاحب کی خدمات قابل صد تحسین ہیں ۔

مرحوم حقانی صاحب نے اس حوالے سے اپنی ایک یاد داشت میں لکھا ہے کہ جب مشرقی صوبوں میں فتوحات کا سلسلہ شروع ہوگیا تو ملا نورالدین ترابی کی سربراہی میں ایک خاص کمیشن بنایا گیا تاکہ مفتوحہ علاقوں میں انتظامی سسٹم فعال کردیں ۔ انہوں نے ہر صوبے میں انتظامی تشکیلات فعال کردیں ۔ مثال کے طورپر ننگرہار میں مولوی احسان اللہ صاحب کو گورنر متعین کیا گیا ، اسی طرح دوسرے لوگوں کو بھی سربراہ متعین کیا گیا ۔ چند دن بعد جب مجاہدین نے کابل پر قبضہ کرلیا تو کابل میں انتظامی کنٹرول کے لیے عالیقدر امیرالمومنین کی جانب سے چھ رکنی کمیٹی متعین کی گئی ، اس کے بعد کابل میں حکومتی شعبوں کی فعالی کے لیے فوری اقدامات اٹھائے گئے اور قندہار میں صوبائی سطح کی تمام محکموں کے سربراہان کو کابل میں متعلقہ محکمہ کا سربراہ متعین کیا گیا ۔ اس طرح کابل کی فتح کے ساتھ حکومتی نظم وضبط بلا کسی تعطل اور وقفے کے فعال کردیا گیا اور اپنے اصلاحی اور انتظامی امور کو جار ی رکھا گیا ۔

انہوں نے انتظامی امور کے سیکرٹریٹ کے کاموں کے حوالے سے لکھا ہے کہ: حکومتی طریقہ کار کے مطابق امارت اسلامیہ کے دور حکومت میں مرکزی سیکرٹریٹ حکومتی نظم وضبط کو فعال مرکز کی حیثیت حاصل تھی ۔ تمام وزارتوں ، دفاتر اور صوبوں کی بھیجی ہوئی درخواستیں اور رپورٹیں اسی راستے ریاست الوزراء اور امیرالمومنین کے دفتر پہنچتی تھیں ۔ اسی طرح قیادت کے فرامین ، ہدایات اور احکام بھی اسی دفتر کے ذریعے تمام وزارتوں اور متعلقہ مراجع تک پہنچتی تھیں ۔

چونکہ وہ انتظامی امور کے دفتر کے سربراہ ، کابینہ کے رکن اور وزراء کی شوری کے منشی بھی تھے ۔ یہ عہدے ان کے لیے شفاف انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے مزید معاون ثابت ہوئے ۔ وزراء کا اجلاس ہر بدھ کے روز منعقد ہوتا تھا ۔ اجلاس سے قبل مخصوص لوگوں کی جانب سے ایک ایجنڈا ترتیب دیا جاتا ، اجلاس کے فیصلے کبھی پشتو اور کبھی دری میں لکھے جاتے ، اور پھر دفتر کی جانب سے تمام معلقہ محکموں کو ارسال کیے جاتے ۔

حقانی صاحب نے انتظامی دفتر کی ذمہ داری کے بعد اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر کی حیثیت سے کام کیا ۔ ایک سال بعد انہیں ایک بارپھر انتظامی دفتر کے سربراہ کے طورپر متعین کیا گیا ۔ انہیں چونکہ اس شعبے میں خصوصی مہارت حاصل تھی افغانستان میں امریکی جارحیت کے وقت تک اسی عہدے پر فائز رہے ۔ جس کے ساتھ ساتھ امارت اسلامیہ کے وزراء کی کمیٹی کے سیکرٹری بھی رہے ۔

افغانستان پر جارحیت کے بعد جب دارالحکومت اور بڑے شہروں پر جارحیت پسندوں کا قبضہ ہوگیا اور مجاہدین مضافاتی علاقوں کی جانب منتقل ہوگئے اور مسلح جہاد کا آغاز کردیا۔ مرحوم حقانی صاحب نے بھی دیگر مجاہدین کے ساتھ مل کر جہاد میں حصہ لیا اور کسی بھی شعبے میں خدمت سے دستبردار نہ ہوئے ۔ اور بالآخر 2008 میں انہیں امارت اسلامیہ کے ثقافتی و میڈیا کمیشن کا سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا ۔

اس مرحلے پر انہوں نے پورے اخلاص ، جدت اور تدبر سے کفری جارحیت کے خلاف ثقافتی اور نشریاتی جہاد کے لیے اپنی زندگی وقف کردی ۔ اور ثقافتی کمیشن کے سربراہ کی قیادت میں ایک مخلص فداکار اور ماہر ساتھی کی حیثیت سے مغرب کے پروپیگنڈے کے طوفان کا مقابلہ کیا اور ان کے خلاف موثر جہادی نشریاتی جنگ لڑی ۔ افغانستان پر امریکی جارحیت چونکہ عسکری لحاظ سے اس کی پشت پر بہت بڑا اتحاد ، پروپیگنڈا بھی بڑے وسیع پیمانے پر کیا گیا تھا اور اس کے مقابلے میں مجاہدین کی نشریاتی کارکردگی اتنی باریک اور موثر تھی کہ دشمن نے مجاہدین کی قوت کا اعتراف کرلیا اور مجاہدین کی میڈیائی کارکردگی کو تیز اور موثر قرار دیا ۔ جس میں دیگر قلمی مجاہدین کے ساتھ ساتھ اس مضبوط میڈیا محاذ کے ایک جری اور ناقابل شکست غازی مرحوم حقانی صاحب تھے اللہ تعالی سے دعا ہے ان کی تمام خدمات قبول فرمائے ۔

مرحوم حقانی صاحب ساتھیوں کی چند یادیں:

حقانی صاحب کے بڑے عرصے سے ساتھ رہنے والے ساتھی مولوی امیرخان متقی صاحب کہتے ہیں : حقانی صاحب ہوشیار اور دانا عالم تھے ۔ جہاد اور امارت اسلامیہ سے دل کی گہرائی سے محبت رکھتے تھے ۔ انتظامی امور میں پوری دلچسپی سے حصہ لیتے ۔ ساتھیوں سے سچی وفاداری اور محبت رکھتے تھے ۔ عملی کاموں میں بہت جدت سے سوچتے اور کام کرتے ۔ عوام کے درد سے درد مند اور خوشیوں سے خوش ہوتے ۔

امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کہتے ہیں حقانی صاحب حق بات کہتے ، حق سنتے اور حق دیکھنا چاہتے ۔ جس معاملے میں یقین ہوجاتا کہ یہ حق ہے کسی بھی مفاد کے لیے وہ راستہ چھوڑنے کے روادار نہ تھے ۔ منازعات اور مشاجرات کے معاملے میں فیصلہ کرتے ہوئے ہمیشہ حق بات کو دیکھتے ۔ غصے اور ناراضگی کے باعث حق سے دستبردار نہ ہوتے ۔ عمر کے آخر تک حق پر رہے ، حق کا ساتھی رہے اور راہ حق میں ہی حق سے واصل ہوگئے ۔

امارت اسلامیہ کے ترجمان قاری محمد یوسف احمدی کہتے ہیں حقانی صاحب باربار کہتے کہ کام والے ساتھیوں کے ساتھ جتنی بھی ممکن ہو بہت گہرا تعلق رکھو کیوں کہ دوری وہ چیز ہے جو ضرور آپ کے کاموں پر برا اثر ڈالتی ہے ۔ وہ ساتھیوں کے درمیان دوستانہ فضا سے بہت خوش ہوتے ۔ شہرت اور خود نمائی سے دور رہتے ۔ وہ خدا سے انتہائی قریب ایک مخلص انسان تھے ۔

تجزیہ کار اور قلم کار مولوی عبدالرحیم ثاقب کہتے ہیں مرحوم حقانی صاحب کا سارا وقت ایک اچھے ماہر اور تجربہ کار سفارت کار اور انتظامی ماہر کے طورپر گذرا ، مگر پھر بھی کبھی خود کو اپنے ساتھیوں سے بڑا نہ سمجھتے ، بلکہ کوشش کرتے کہ اپنے ساتھیوں کے تجربہ اور مہارت سے فائدہ اٹھاتے ۔

ملک کے مشہور قلم کار ملا عتیق اللہ عزیزی کہتے ہیں کہ جب بھی میری ان سے ملاقات ہوئی دیانت اور اخلاق کے اس بلند مینار کی زبان سے ہمیشہ ایسی نصائح اور تجربات سننے کو ملے جو یقینا میرے لیے انتہائی قیمتی ثابت ہوئے ۔ اور خدمت کے میدان میں مزید سرعت کا باعث بنے ۔ میں نے کبھی ان سے یہ نہیں سنا کہ فلاں کارنامہ میں نے کیا ہے بلکہ ہر کام کو ساتھیوں کی خدمت اور محنتوں کا صلہ قرار دیتے ۔

مرحوم حقانی صاحب کے بھائی اور خاندان کے لوگ ان کے متعلق کہتے ہیں حقانی صاحب کی ذاتی زندگی میں عجیب عادات اور خصوصیات تھیں ۔ کسی کے ساتھ بھی ناراضگی اور حسد میں مقابلہ نہ کرتے ۔ بہت مرتبہ ایسا ہوا کہ ان سے کوئی ناراض ہوتا اور ہر معاملے میں ان سے حسد کرتا مگر وہ خود چل کر اس کے گھر جاتے اور اسے مناتے ۔ اگر کوئی گھر میں چھپ جاتا اور باہر نکل کر ملنے نہ آتا، گھر والے بہانہ کرتے کہ وہ کہیں باہر نکل گیا ہے ۔ تو گھر کے افراد سے کہتے تم جاو انہیں ڈھو کر لاؤ اس سے انتہائی ضروری کام ہے میں یہیں انتظار کروں گا۔ بالآخر وہ مجبور ہوکر باہر آہی جاتا۔

وفات:

حقانی صاحب اپنی جہادی ذمہ داری میں ساری زندگی مشغول رہے۔ 1437ھ ق سال 22ربیع الاول بروز ہفتہ لاحق ہونے والی بیماری کے باعث خالق حقیقی سے جاملے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

مرحوم نے پس ماندگان میں 8بیٹے اور پانچ نیک صالح بھائی چھوڑے ۔ حقانی صاحب کی وفات کی خبر سوشل اور ریگولر میڈیا پر بہت زیادہ نشر کی گئی ۔ بہت سے لوگوں نے ان پر تعزیتی پیغامات اور تحریریں لکھیں ۔ امارت اسلامیہ کی قیادت کی جانب سے ان کی وفات پر بھی تعزیتی بیان نشر کیا گیا۔جس میں لکھا گیا کہ : امارت اسلامیہ افغانستان کی قیادت ، رہبری شوری اور ثقافتی کمیشن کی نمائندگی سے ان کے وفات پر تعزیت اور صبر واستقامت کی دعائیں پیش کرتے ہیں ۔

اللہ تعالی ان کی خدمات اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔ انہیں دنیوی عبادات ، اسلامی نظام کے لیے کوششوں اور تکالیف کے برداشت کرنے پر مکمل اجر عطافرمائے ۔ اللہ تعالی ان کے خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*