mulki-talafat-s-

جنگی جرائم نومبر 2015

سید سعید

رواں سال ماہ ِ  نومبر کی   3 تاریخ کو صوبہ میدان  وردگ کے  ضلع سید آباد  کے شیخ آباد  نامی گاؤں میں ملکی کٹھ پتلی  اہلکاروں  کے مارٹر  گولوں  کی زد میں آکر ایک چار سالہ  بچہ  منصور ولد  حیات  اللہ شہید جبکہ  ایک  بچہ زخمی  ہوا۔

6 نومبر کو  رات کی  تاریکی  میں کٹھ پتلی  حکومت کے  اہلکاروں  نے   صوبہ  خوست  سے  ملحقہ ڈیری کے  علاقے پر چھاپہ مارا جس  میں وحشی   کٹھ پتلیوں نے   ایک   گھر کے دو افراد کو شہید جبکہ تین افراد کوگرفتار کر لیا۔

8 نومبر صوبہ کندز کے  ضلع امام صاحب  کے دو علاقوں  زرکمر اور  شہروان میں کٹھ پتلی  اہلکاروں  کے  مارٹر  گولوں  کے حملے میں  درجنوں  شہری شہید اور زخمی ہوئے جبکہ گھروں کو  بھی شدید  نقصان پہنچا۔ اسی  طرح اس  صوبے کے دشت ارچی  ضلع میں  بھی  کٹھ پتلی  اہلکاروں  کے مختلف  حملوں میں عام شہریوں  کو  بھاری  جانی و مالی  نقصانات اٹھانے پڑے  ۔

10 نومبر صوبہ   خوست کے ضلع  علی شیر  کے علاقے رویزگی  میں کاسہ  لیس اہلکاروں  نے فائرنگ کرکے دو شہریوں کو شہید کیا۔

11 نومبر کو  صوبہ زابل  میں داعش کے ہاتھوں قتل ہونے  والے افراد کے  لواحقین  نے کابل  میں صدارتی   محل  کے سامنے  مظاہرہ کیا انہوں نے حکومت کے خلاف شدید  نعرے  لگائے اور مستقبل  میں شہریوں  کی تحفظ کا  مطالبہ کیا   اس دوران   کاسہ  لیس اہلکاروں نے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس کے  نتیجے  میں 7 مظاہرین زخمی ہوئے۔

12 نومبر کو صوبہ  غزنی کے ضلع شلگر  میں کلی  رحیم خیل  میں   قومی  ملیشیاء کے  وحشی  اہلکاروں نے اس علاقے کے   ایک شخص خالد آکا کے گھر پر چھاپہ مارا اور انھیں  اپنے بچوں کے  سامنے بے دردی سے شہید کیا۔

13 نومبر کو غیر ملکی جارحیت پسندوں نے   کٹھ پتلی  اہلکاروں کی  مدد سے  رات کو ایک سرچ  آپریشن کے  نتیجے  میں صوبہ  پکتیا کے  ضلع  زرمت  کے علاقے چہار کلا میں عام شہریوں پر  تشدد کیا  اور ان کے  گھروں کولوٹ لیا  ۔

14 نومبر کو صوبہ  خوست ضلع سپیرہ  سے ملحقہ  علاقے میں  طالبان  اور غیر ملکی فوجیوں کے  درمیان ایک جھڑپ کے دوران غیر ملکی جارحیت پسندوں نے  ایک  گھر پر بمباری کی جس میں دو عام شہری   شہید جبکہ ایک زخمی ہوا۔

15 نومبر کو صوبہ فراہ کے ضلع پشترود  کے علاقے بلندی میں کٹھ پتلی حکومت کے  اہلکاروں کے ایک مارٹر گولے کے حملے  میں ایک خاتون  سمیت  چار افراد زخمی ہوئے۔

15 نومبر  کو ہی  صوبہ لوگر کے ضلع محمد آغہ   کے زرغون شار  نامی  گاؤں پر غیر ملکی جارحیت پسندوں  اور  ملکی کاسہ لیسوں   نے  چھاپہ  مار کر  تین  شہریوں کو  گرفتار کیا۔

17 نومبر کو غیر مکی  جارحیت پسندوں   نے صوبہ  ہلمند کے  ضلع نادعلی کے  شنہ  جامعہ علاقے میں  چھاپہ مارا اور تین  شہریوں کو   بلا جواز  گرفتار کر  لیا گیا۔

21 نومبر کو صوبہ   نورستان کے مرکز  پاروان  سے ملحقہ چتراس  کے  علاقے میں کٹھ پتلی  حکومت کے  اہلکاروں نے  چھاپہ  مارا۔لوگوں پر  سخت تشدد کیا گھروں کی  تلاشی کے بہانے قیمتی  اشیاءلوٹنے کے ساتھ 12 شہریوں کو  گرفتار  بھی کیا گیا۔

22 نومبر کو صوبہ تخار کے ضلع  ینگی  کے  کہنہ قریہ  میں قومی  ملیشیاء کے  اہلکار ایک  گھر پر ڈاکہ   ڈالنے کیلئے ایک  گھر میں داخل   ہوئے جب  اہل خانہ کو پتہ  چلا تو  ان  وحشی  ڈاکو اہلکاروں نے  ان پر فائرنگ کردی  جس کے  نتیجے میں  اس  خاندان کے تین افراد موقع پر ہی شہید ہوئے بعد میں   مذکورہ  ڈاکو 60000 افغانی  بھی لے  اڑے۔

22 نومبر کو کابل  کے ضلع موسہی میاخیل نامی  گاوّں میں قومی  ملیشیاء کے  اہلکاروں نے   ایک  نوجوان امیر  گل  پر  تشدد کر کے  شہید کیا۔

23 نومبر  کو ننگرہار کے ضلع غنی خیل  کے   علاقے سیاچوب میں غیر ملکی  جارحیت پسندوں نے چھاپہ  ماراگھر گھر تلاشی کے  بعد محلے کے  چار افراد  کو گرفتار  کرکے  اپنے ساتھ لے گئے

23 نومبر کو ہی  غیرملکی  قابضین اور  ان کے  کاسہ  لیس اہلکاروں نے  صوبہ ہلمند کے ضلع گرشک  میں  نہر سراج کے  حاجی  دین محمد گاوّں پر چھاپہ مار کر محلے  کے  چار عام افراد کو شہید کیا جبکہ  ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔

24 نومبر صوبہ غور سے ملحقہ اللہ یار کے  علاقے میں طالبان اور کاسہ لیس اہلکاروں کے  درمیان جھڑپ کےدوران  کٹھ پتلی کاسہ  لیسوں کی  فائرنگ کی زد میں آکر دو عام شہری  شہید ہوئے۔

26 نومبر صوبہ کونڑ کے ضلع   ناڑی   کے علاقے  باٹاش میں قومی ملیشیاء کے    درندہ صفت اہلکاروں نے ایک   سفید  ریش  بزرگ محمد امین اور ان کے جواں سالہ  بیٹے  کو اس وقت شہید کیا جب وہ  ایک  قریبی  رشتے دار کی نماز جنازہ میں شرکت    کے بعد واپس گھر جارہے تھے۔

27 نومبر صوبہ کونڑ کے ضلع مانوگی  سے  ملحقہ علاقے  میں کٹھ پتلی   اہلکاروں نے  فائرنگ کرکے  دو عام شہریوں کو شہید کیا۔

28 نومبر صوبہ خوست کےضلع صبری  سے ملحقہ  علاقے میں  دو  کاسہ لیسوں نے  دو عام شہریوں کو  گرفتار کیا۔

29 نومبر صوبہ میدان وردگ کے ضلع نرخ  کے  قریب الیکہ  کے علاقے میں ملکی  کٹھ پتلیوں نے فائرنگ کرکے ایک عورت  کو شہید کیا۔

30 نومبر صوبہ ارزگان کے  ضلع خاص ارزگان  کے قریب نیکروز کے علاقے میں قومی ملیشیاء کے  اہلکاروں  نے   سکول  کے  ایک استاد سمیت تین  عام شہریوں کو شہید کیا، مقامی  افراد کے مطابق قومی ملیشیاء کے  اہلکاروں نے مقامی سکول کے استاد ان کے بیٹا اور ظاہرآکا نامی شخص سمیت تین افراد کو شہید کیا۔

اقتباسات: بی بی سی، آزادی ریڈیو، افغان اسلامک نیوز ایجنسی، پژواک، خبریال، لراوبر، نن ایشیاء اوربینوا ویب سائٹس

 

 

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*