rose

پیکر ِعلم وجہاد مولوی محمد رستم حنفی

تحریر:    مجاهد

شہید مولوی محمد رستم  حنفی افغانستان کے صوبہ  نورستان کے ضلع دوآب میں  ایک  دیندار اور علم دوست  گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے  والد کا نام  ملک  حبیب اللہ  خان اور دادا  کا نام  ملک عبدالقادرخان ہے ۔ آپ نورستانی القریشی قبیلے  سے تعلق رکھتے تھے۔

تعلیم وتربیت:

شہید مولوی محمد رستم  حنفی نے   ابتدائی  تعلیم اپنے آبائی  گاؤں  کے  ایک  نامور  عالم عبدالقادر سے   حاصل کی  اور  تیرہ سال کی عمر تک آپ  یہیں  پڑھتے  رہے ۔ آپ کے والد محترم نے مزید  تعلیم کے لیے آپ کو علاقے  کے ایک اور  عالم مولوی عبدالرزاق کے پاس  بھیجا، جو ’گزین مولوی صاحب‘ کے  نام سے مشہور  تھے۔ شہید مولوی محمد رستم  حنفی کے والد اگرچہ عالم دین  نہیں  تھے، لیکن  انہیں علماء سے  بہت  محبت تھی۔اسی لیے ان کی  بڑی خواہش  تھی کہ  اپنے  بیٹے  کو عالم   بنا کر دین کی خدمت کے لیے وقف کروں۔ شہید مولوی  صاحب  نے بھی  اپنے والد محترم کی خواہش  پوری کرتے ہوئے  بڑے شوق سے مولوی  عبدالرزاق کے ہاں دینی تعلیم کا سلسلہ  جاری رکھا۔

جہادی تحریک  میں  شمولیت:

جب  جارحیت پسند کمیونسٹ روسی  افواج   نے اپنے   کاسہ  لیس افغان  ایجنٹوں کی مدد سے افغانستان  پر سربریت کی  تو  افغانستان کے   تمام علماء  نے روس اور ان کے   ہمنواؤں  کے خلاف  جہاد کا  فتویٰ جاری کر دیا، جس کے ساتھ   ہی  ملک  کے  طول  و عرض میں  کفار اور ان کے ایجنٹوں  کےخلاف جہادی کارروائیوں کا آغاز ہوگیا۔ اس  وقت شہید مولوی  محمد رستم  حنفی کی عمر سترہ  برس  تھی۔ چوں کہ  مولوی  گزین   صاحب  علاقے   کے  ایک  معتبر  عالم  دین  تھے،  اس لیے  حالات   کے پیش  نظر  لوگوں  نے  جہادی  قیادت کی  ذمہ  داری  ان کے کاندھوں پر ڈال  دی۔ مولوی گزین نے   جہادی کارروائیوں کا آغاز اپنے  علاقے سے کیا اور بعد  میں اسے دوسرے  علاقوں  تک  پھیلا دیا۔ گزین  صاحب  نے  شہید حنفی  صاحب  کے والد ملک  حبیب اللہ  خان کو ایک  جہادی  گروپ کا کمانڈر مقرر کیا۔ ملک   حبیب اللہ خان نے  مغربی  نورستا ن  میں جہادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ شہید حنفی صاحب  نے اسی وقت  اپنے  والد صاحب کی قیادت میں جہاد کا   آغاز کیا اور  اپنے والد کے  گروپ میں  شامل ہوئے اور  بڑی  بہادری سے  اس مقدس  فریضے کو ادا کرتے رہے۔ ان  کے والد  ایک دراز قد، مضبوط ذہن اور جہاد کے لیے نہایت موزوں   جسم کے  مالک  تھے۔ اسی وجہ سے وہ لوگوں  میں حبیب اللہ خان دراز  کے نام سے ہوئے۔ قوی جسم اور  جہادی  ذہنیت کی  بنا  پر بہت کم  عرصے میں  انہوں نے  جہادی کارروائیوں  میں  تیزی لاتے ہوئے ضلع دو آب کو فتح کیا اور جہادی کارروائیوں کا جال   لغمان   ضلع  علینگار تک  پھیلا دیا۔

ہجرت:

اگرچہ  شہید حنفی  صاحب کے خاندان نے ہجرت نہیں کی، اس کی وجہ یہ   ہے  کہ  مغربی  نورستان ایک  پہاڑی علاقہ   ہے،  جہاں کبھی  بھی  دشمن کی افواج  کا  تسلط قائم  نہیں ہوا۔ یہاں  تک   کہ لغمان کے بعض  مجاہدین  اس  علاقے  کی  طرف  ہجرت کرتے تھے،لیکن شہید مولوی صاحب حنفی  اعلی ٰ دینی  تعلیم  کے  حصول  کے لیے پاکستان  ہجرت کر گئے۔ انہوں نے پاکستان کے ضلع  چارسدہ کے مشہور مدرسے دارالعلوم  اسلامیہ چارسدہ میں دینی  تعلیم کے  حصول کا آغاز کیا۔ ایک سال  بعد انہوں   نے مردان کے دارالعلوم طورو میں   داخلہ لیا۔ درجہ  چہارم تک یہاں  زیر ِ  تعلیم  رہے   اور پھر  کوہستان تشریف لے  گئے۔ وہاں داسو کے علاقے دارالعلوم اسلامی امینیہ میں  اپنے  دروس  جاری رکھے۔ بعد ازاں بٹگرام میں علاقے  کے مشہور عالم مولانا شہزادہ  سے  اسباق کا سلسلہ جاری رکھا اور پھر واپس مردان  میں دارالعلوم میں مشہور عالم مولانا غلام محبوب سے  بقیہ  فنون پڑھے۔ پھر وہ صوابی کے  دارالعلوم  تعلیم  القرآن شاہ  منصور میں چیکسر کے  مشہور عالم ماہر المعقولات مولانا عنایت اللہ  چیکسری سے  معقولات پڑھنے لگے۔ اس  سال  ان  کے ہم  درس ساتھیوں میں  امارت اسلامی  کے     کچھ  رہنما  بھی  شامل  تھے، جیسے  اختر محمد عثانی  وغیرہ۔ اس کے  بعد  آپ دورۃ الصغریٰ کے لیے مولانا   محمد صدیق کے  ہاں تشریف لے گئے۔ اس  سال کی  چھٹیوں میں امارت اسلامی کی مشہور   شخصیت شیخ الحدیث مولانا محمد  نعیم کے ساتھ  دورۃ الصغریٰ میں دوبارہ شرکت کی۔ 1995ء   میں شہید  حنفی  صاحب  نے مشہور  دینی درسگاہ  دارالعلوم  حقانیہ سے  سند فراغت  حاصل  کی۔

جہادی کارروائیوں کا دوسرا  مرحلہ:

جس وقت  حنفی  صاحب  دورے  میں  مصروف  تھے، اس وقت قندہارمیں امیر  المؤمنین ملا محمد  عمر مجاہد رحمہ اللہ کی  قیادت  میں طالبان  کی  تحریک  شروع  ہوئی۔  چوں کہ حنفی صاحب اس تحریک سے  قبل  بھی  جہاد  میں مصروف رہ  چکے تھے اور  مشرقی افغانستان کے  صوبوں میں اہل السنت والجماعت تنظیم  کے مؤسسین میں سے تھے اور  صوبہ  نورستان  اور لغمان میں اہل السنت  والجماعت کے صدر  بھی  تھے۔اسی  لیے تحریک کے  آغاز کے ساتھ  ہی  انہوں نے  اپنی  تنظیم کی  شوریٰ کا اجلاس  طلب کر لیا۔ بعد میں  ایک    وفد کی صورت میں قندھار  آئے اور  مرحوم  امیرالمؤمنین  ملا محمد عمر مجاہد سے  ملاقا ت کی۔  قندھار سے  واپسی  پر اپنی  تنظیم کی شوریٰ کو  امارت کی  تحریک  کے  بارے میں  مکمل  معلومات فراہم کیں،  جن کی  بنیاد  پر شوریٰ نے  متفقہ  طور پر امیرالمؤمنین رحمہ  اللہ کی  حمایت   اور  بیعت کا  اعلان کر دیا۔

مدرسے  میں دستار بندی کے فوری  بعد  گھر جانے کے بجائے    مجاہدین کی ایک  تشکیل  میں  قندہار گئے اور  وہاں سے ملاصاحب  مرحوم  کی  ہدایت پر  نیمروز کی  طرف  مجاہدین کی  ایک تشکیل  میں  شامل ہوگئے۔یہاں کچھ  عرصہ  گزارنے کے  بعد  دشمن  نے ان کے ساتھیوں   پر صبح صادق  کے وقت    اچانک  حملہ کیا، جس میں  ننگرہار کے   مشہور عالم  دین سمیت کئی ساتھی   شہید ہوگئے، جب کہ  حنفی صاحب  زخمی ہوگئے،  جنہیں علاج  کے لیے بلوچستان کے ضلع کوئٹہ منتقل کیا  گیا۔ ان کے   علاج   تک  جنوبی  صوبے  فتح   ہوچکے  تھے۔ اس  لیے  صحت یاب ہونے  کے بعد آپ خوست آگئے ۔ آپ بعدازاں مجاہدین  کے  حوصلے  بلند رکھنے کے لیے مختلف اوقات میں چہار آسیاب  کی جنگی پٹی  پر تشریف لے جاتے۔ جب آپ واپس قندھار آئے،  جہاں  آپ لغمان اور   نورستان کی  نمائندگی  کرتے  اور کبھی  کبھار مرحوم  امیرالمؤمنین  انہیں مشورے کے لیے بھی  طلب کرتے تھے۔

جب مشرقی  صوبو  ں کی   فتح کی کوششیں  شروع ہوئیں تو  حنفی صاحب   مشہور  کمانڈر ملا بورجان کی   قیادت میں مجاہدین کے  قافلے میں شامل  ہوگئے اور  کابل  کی فتح تک  مجاہدین کے شا نہ  بشانہ  لڑتے  رہے۔

جہادی  ذمہ داریاں:

جب  مجاہدین نے  اللہ  تعالیٰ کی  مدد و نصرت سے  کابل  فتح کیا تو  حنفی  صاحب کو  شہر کی  تعمیر   و ترقی  کی  ذمہ داری  سونپی  گئی۔ بعد میں انہیں فوائد عامہ  کی وزارت میں  نائب مقرر کیا  گیا۔ وہ امارت اسلامی  کے  حکومت  کے آخری ایام  تک  اسی  منصب پر فائز  رہے۔ وزارت کی  اہم  ذمہ داریاں سنبھالنے کے  بعد حنفی صاحب اپنے ساتھیوں  کی خبر گیر ی کے لیے جنگی  پٹی پر بھی تشریف لے  جاتے اور   مجاہدین ساتھیوں کےساتھ جہادی  امور  پر عالمانہ گفتگو  کرتےاور جہاد کی  فضیلت پر  سحر انگیز بیان کرتےتھے۔

صلیبیوں کے خلاف  جہاد:

2001ء میں  امریکا کی قیادت میں  درجنوں صلیبی  جارحیت پسندوں نے  افغانستان پر حملہ کیا  اور   امارت اسلامی کی  حکومت ختم ہوئی تو حنفی صاحب نے  ایک  بہادر  مجاہد کی طرح امریکا کےخلاف  علم  جہاد  بلند کیا اور  جہادی   کارروائیوں  کے آغاز  کے لیے اپنے  آبائی صوبے  نورستان تشریف لے گئے۔ وہاں بڑی   بہادری  اور شجاعت سے  جہاد ی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ ساتھیوں  کو منظم کرنے  کے بعد   مختلف اوقات میں  دشمن  پر  حملے  شروع کیے۔ حنفی صاحب  کی شجاعت  اور  قربانی  کے  نتیجے میں  نورستان  میں جہاد  کی صدائیں بلند ہونے  لگیں۔ جہاد کی  اس صدا کو خاموش کرنے کے لیے دشمن  نے کئی بار مجاہدین   پر فضائی حملے کیے، جن میں  سب سے   وحشیانہ  حملہ نورستان کے  گاؤں شوک پر کیا  گیا۔  اس میں  اس  گاؤں کے  تیس افراد  شہید،  جب کہ درجنوں زخمی ہوگئے،  لیکن کفار تمام تر  کوششوں کے  باوجود  مولوی صاحب  حنفی اور   ان کے ساتھیوں  کا راستہ  روکنے میں  ناکام  رہے۔

2001ء میں مجاہدین نے  حنفی صاحب  کی قیادت میں  نورستان کے ضلع دوآب پر حملہ کیا، جس کے  نتیجے میں  مجاہدین یہ ضلع فتح کرنے  میں  کامیاب ہوگئے۔ اس کے  بعد  دشمن  نے  ایک بار پھر  وحشیانہ  بمباری   شروع کی،  جس کے  نتیجے میں  درجنوں شہری شہید ہوئے اور مولوی صاحب   زخمی ہوگئے ۔ ان کو سر پر شدید زخم آئے تھے۔چوں کہ   علاقے میں علاج  معالجے کی خاص سہولیات نہیں  ہیں،  اسی لیے مولوی صاحب کے سر کا  زخم  سرطان  میں  تبدیل  ہوگیا۔ نورستان ایک پہاڑی اور دشوار  گزار  علاقہ ہونے کی وجہ  سے  نقل  حمل  کے  اسباب   نہ   ہونے کے  برابر ہیں۔  اس لیے  مولوی صاحب  کے   زخموں کے علاقائی روایتی علاج میں  دوسال کا عرصہ لگا اور بالآخر  مرض کی شدت کے باعث 6 فروری 2012ء پیر کے دن خالق ِ  حقیقی سے جاملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اخلاق وعادات:

اللہ تعالیٰ نے  مولوی صاحب کو بہت سی  خوبیوں سے  نوازا تھا،  جن میں کچھ  قابل ذکر  خصوصیات  یہ ہیں:

صبر واستقامت،  حلم و  تقویٰ، سخاوت اور  مہمان نوازی، شجاعت و بہادری، خندہ پیشانی  کے  ساتھ ساتھیوں سے ملنا، ہمیشہ  آپسی اتحاد  کے لیے فکرمند رہنا،  اختلافات سے  اجتناب،  ہمیشہ  حق پر ثابت  قدم رہنا، عجز وانکساری، ساتھیوں میں مقبولیت، ساتھیوں کی جانب  سے   اعتراض کا  فقدان۔

مولوی صاحب   نے   پسماندگان  میں    ایک  بیوہ  دو  بیٹے،تین  بیٹیاں  اور  تین بھائی چھوڑے تھے۔ اللہ   تعالیٰ ان کی جہادی خدمات کو اپنی  بارگاہ میں  قبول فرمائے۔ آمین

اضف رد

لن يتم نشر البريد الإلكتروني . الحقول المطلوبة مشار لها بـ *

*